خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 74

خطبات طاہر جلد 16 74 خطبہ جمعہ 31 جنوری 1997ء گیا کہ اکثر سننے والے جو دنیا بھر میں مختلف علمی معیار کے ہیں شاید اس سے استفادہ نہ کرسکیں اور جہاں تک استغفار کا تعلق ہے اور بخشش کا تعلق ہے حمد اس سے بالا اوپر کا یعنی بعد کا مضمون ہے اور بخشش کا تعلق زیادہ تر تسبیح سے ہے۔ پس اس پہلو سے میں نے سوچا کہ آج کے جمعہ میں تسبیح کے مضمون پر میں زیادہ زوردوں اور اس مضمون کو بخشش کے ساتھ باندھ کر، جوڑ کر آپ کے سامنے کھولوں ۔ جس آیت کریمہ کی میں نے تلاوت کی ہے یہ سورہ جمعہ سے لی گئی ہے اور سورہ جمعہ میں تسبیح کے ساتھ مضمون کا آغاز بتاتا ہے کہ وہ تمام اعلیٰ مقاصد جن کی خاطر آنحضرت یہ تشریف لائے اور صلى الله علي جن کا فیض دوزمانوں کو ملا گیا اور پہلے زمانے اور آخرین کے زمانے دونوں کو آپ کے فیض نے اکٹھا کر دیا اس مضمون کا آغاز تسبیح سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے بعد پھر وہ صفات بیان ہوئی ہیں جو حمد الله سے تعلق رکھتی ہیں۔ پس میں اس آیت کے حوالے سے جو ہمیں آنحضرت ﷺ کے زمانے سے جوڑنے والی آیت ہے تسبیح کے مضمون کو شروع کرتا ہوں ۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اکثر قرآن کریم میں جہاں کا ئنات کا ذکر ہے وہاں تسبیح کا مضمون ملتا ہے مگر حمد ضروری نہیں کہ بیان ہو اس سے پتا چلتا ہے کہ کائنات کا آغاز خدا تعالیٰ کی ایسی صفات سے ہوا ہے جو ہر عیب سے پاک تھیں اور ان صفات کا عیب سے کلیہ پاک ہونا لازما تحمید کا مضمون پیدا کرتا ہے۔ مگر یہ جو دوسرا حصہ ہے یہ شعور سے تعلق رکھتا ہے، زیادہ تر شعور سے تعلق رکھتا ہے۔ پس تسبیح سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی پاکی بیان کی جائے ۔ یہ بیان کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے احتمالی عیب سے کلیہ پاک ہے اس میں کوئی بھی کمزوری نہیں اور جب یہ بات متحقق ہو جائے ، ثابت ہو جائے کہ ایک چیز ہر قسم کی کمزوری سے کلیہ پاک ہے تو اس کے بعد حمد کا مضمون لازماً ایک طبعی نتیجے کے طور پر شروع ہو جاتا ہے۔ پس تاریخی عمل کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تسبیح سے خدا تعالیٰ کی صفات کا مضمون شروع ہوتا ہے مگر تسبیح اور تحمید کے درمیان وقتی طور پر فاصلہ نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ ہر پا کی بلا توقف ایک حمد کا مضمون پیدا کر دیتی ہے اور اس پہلو سے یہ دونوں اٹوٹ رشتہ رکھتے ہیں ۔ ایسا رشتہ ہے کہ وہ لازم ملزوم ہیں گویا ایک کے بعد دوسری چیز کا پیدا ہونا ایک قطعی اور طبعی عمل کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ مثلاً آپ اپنی ذات میں سوچیں اگر آپ نے جھوٹ سے کلیہ تو بہ کر لی ہو تو یہ مضمون تسبیح سے تعلق رکھتا