خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 786

خطبات طاہر جلد 16 786 خطبہ جمعہ 24 اکتوبر 1997ء الله اور وہیں Destroy کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ جو لیز رکا نیا نظام بنا ہے یہ بھی اسی اصول کے تابع بنا ہے۔مگر قرآن کریم میں اور آنحضرت ﷺ کے بیانات میں یہ ساری حکمتیں موجود ہیں۔کوئی ایسی نئی ایجاد نہیں ہو سکتی جس کی بنیاد قرآن میں یا حدیث میں نہ ہو۔پس دفاعی نظام کا ذکر فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ یہ بھی ایک قسم کا رباط ہے یعنی سرحد پر چھاؤنی قائم کرنا۔جس شخص کا دل نماز میں اٹکا ہو اس پر فحشاء اور منکر حملہ کر ہی نہیں سکتے۔جہاں بھی کوئی چیز اس کے اٹکے ہوئے دل کو اپنی طرف کھینچے گی وہ متنبہ ہو جائے گا۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی میہ نے نماز کے مضمون کو اس ا صلى الله باریکی سے ہم پر کھولا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔کوئی دنیا کا کوئی رسول پیش کر کے دکھائے ، ناممکن ہے کہ ان باتوں کا عشر عشیر بھی کسی اور رسول کی طرف کوئی انسان منسوب کر سکے خواہ کیسا ہی اس کا شیدائی کیوں نہ ہو۔عبادت الہی جو انسانی روحانی زندگی کا مرکز ہے اس سے متعلق بہت کم باتیں ملاتی ہیں اور ملتی ہیں تو نسبتا سرسری۔ہوسکتا ہے ان باتوں کو محفوظ ہی نہ کیا گیا ہو ، لوگوں نے توجہ نہ کی ہو۔مگر اب جو ہمیں تاریخ کے حوالے سے گزشتہ انبیاء کی باتیں ملتی ہیں ان میں تو لازماً عبادت الہی کے متعلق عشر عشیر تو کیا اس کا سوواں حصہ بھی مذکور نہیں ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے قرآن کے حوالے سے بیان فرمایا۔حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں اور یہ حدیث بخاری کتاب الاذان سے لی گئی ہے۔یعنی وہ لوگ جو مسجدوں میں آتے ہیں پہلے آ کے بیٹھتے ہیں ان کے فضائل کا ذکر ہے۔حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم چند ہم عمر نو جوان آنحضرت یہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔یہ بڑی دلچسپ روایت اس لحاظ سے ہے کہ اس زمانے میں ہم عمر نو جوان ٹولے بنا بنا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور دوسری قسم کے ہم عمر ، بڑے بھی آتے ہوں گے۔مگر اب جو میں نے غور کیا تو دیکھا کئی دفعہ ایک مجلس سے ، ایک جماعت سے ملتے جلتے مزاج کے لوگ اکٹھے آجایا کرتے ہیں، یہاں ٹھہرتے ہیں۔تو یہ بنیادی طور پر وہی نیکی ہے جو صلى الله رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں رائج ہوئی تھی اور اس کی کچھ مثالیں ہم اب اپنی زندگی میں بھی دیکھ رہے ہیں۔عرض کرتے ہیں ، ہمیں دن ٹھہرے۔آپ نہایت نرم دل اور مشفق تھے۔جب آپ نے محسوس فرمایا کہ اب ہم اپنے گھر کو واپس جانا چاہتے ہیں تو آپ نے ہم سے دریافت فرمایا کہ تمہارے