خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 770
خطبات طاہر جلد 16 770 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہوئے دماغ میں یہ خیال آتا رہتا ہے،مزے مزے کا خیال کہ جب ہم فارغ ہوں گے تو پھر ایک دفعہ کھائیں گے اور جو دل کا اٹکنا ہے وہ دنیا کے کاموں کو یہ توفیق نہیں دیتا کہ اس سے توجہ کلیہ پھیر سکیں۔آپ دنیا کمانے میں مصروف ہوں گے آپ کئی قسم کے مشاغل میں مصروف ہوں گے لیکن وہ لذت جو پہلے آئی تھی یعنی پہلی دفعہ کھانا کھانے کی اگر علم ہو کہ سب باتوں سے تھک کر جب میں واپس گھر لوٹوں گا پھر وہی لذت مجھے دوبارہ نصیب ہوگی تو دل اس میں اس طرح اٹکے گا کہ دنیا کے مشاغل اور کام آپ کو اپنی طرف اس طرح نہیں کھینچ سکتے کہ اپنا کھانا پینا بھول جائیں۔بعض دفعہ انسان کھانا پینا بھی بھولتا ہے مگر اس کے محرکات اور ہیں۔اس کے متعلق میں پہلے بھی غالبا روشنی ڈال چکا ہوں لیکن اس وقت میں اس خطبے میں ان کو نہیں لینا چاہتا۔وہ اپنی ذات میں ایسی اہمیت اختیار کر جایا کرتے ہیں کہ وہ محرکات پھر انسان کی بنیادی ضرورتوں میں بھی حائل ہو جاتے ہیں لیکن ان باتوں کو سر دست چھوڑ دیجئے ، اس بات کی طرف واپس آئیں کہ اگر آپ نے نماز میں دل اٹکانا ہے تو نماز میں لذت یابی ضروری ہے۔اس سلسلے میں یہ معلومات میں آپ کو مہیا کرتا ہوں کہ پچھلے چند اسباق سے میں نے اردو کلاس میں نماز سے متعلق یہ گفتگو شروع کی ہے اور ان کو اس طرح سمجھا رہا ہوں جیسے میں شروع سے ہی مختلف وقتوں میں اپنے بچوں کو سمجھانے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ان کو نماز کی اہمیت کے متعلق سمجھا رہا ہوں لیکن اگر آپ اس اردو کلاس کا مشاہدہ کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ بچے اس سمجھانے کے نتیجے میں اکتائے نہیں بلکہ اور بھی زیادہ توجہ سے وہ اردو کلاس میں دلچسپی لینے لگے ہیں یعنی جو باتیں میں ان کو سمجھاتا ہوں، جس طریق پر ان کو سمجھاتا ہوں وہ ایسی ہیں کہ کہانیوں سے زیادہ ان کے لئے دلچسپ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا عرفان اور آنحضرت ﷺ نے جس طرح نماز پڑھنے کے سلیقے ہمیں سکھائے ہیں وہ جاننے کے نتیجے میں بسا اوقات میری نظر پڑتی ہے تو ان کے چہرے چمک دمک رہے ہوتے ہیں، خوشی کے ساتھ اور ذاتی تعلق کے نتیجے میں ایسے کھلکھلا اٹھتے ہیں کہ مجھے اس سے تسکین ملتی ہے کہ ان بچوں کو دونوں باتیں بیک وقت میسر ہیں، اردو کلاس کی دلچسپی بھی اور نماز کا عرفان بھی ساتھ ساتھ نصیب ہو رہا ہے۔یہ کلاسیں ابھی کچھ عرصہ اسی طریقے پر چلیں گی کیونکہ میری عادت ہے کہ ان اسباق میں میں ارد گرد کی باتیں بھی ساتھ ساتھ بتاتا چلتا ہوں تا کہ نماز کے گرد عرفان الہی کے