خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 763
خطبات طاہر جلد 16 763 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء نماز یا صبح کی نماز کے وقت آنحضرت ﷺ کی خواتین مبارکہ گھر میں بیٹھ کر باجماعت نماز نہیں پڑھا کرتی تھیں، مسجد میں آکر باجماعت نماز پڑھتی تھیں۔جمعہ کے دوران بھی ایسا انتظام تھا کہ ان کے لئے الگ جگہ مقررتھی جہاں وہ بے جھجھک نماز پڑھ سکتی تھیں اور مردوں کی نظر چونکہ وہ پیچھے ہوتی تھیں ان کی طرف لوٹ کر نہیں پڑ سکتی تھیں، مرد اپنی توجہ سامنے رکھتے تھے عورتیں پیچھے بیٹھی ہوتی تھیں اور جب خواتین اس حصے سے باہر نکل جاتیں تب مرد واپس لوٹا کرتے تھے۔تو پردے کے مختلف انتظامات ممکن ہیں۔آج کل ہم مسجد کے ایک حصے میں پردہ ڈال دیتے ہیں، ایک طرف مرد بیٹھ جاتے ہیں ایک طرف عورتیں۔تو جو صورت بھی آپ اختیار کریں یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ اس حدیث کی روشنی میں جو عملاً آنحضرت ﷺ کی زندگی اور آپ کی خواتین مبارکہ کی زندگی کا نقشہ تھا وہ یہی تھا کہ باجماعت نمازوں میں اپنے گھر کو مسجد نہیں بناتی تھیں بلکہ با جماعت نماز میں گھروں سے نکل کر ساتھ مسجد میں داخل ہوا کرتی تھیں اور ایسی روایتیں بکثرت ہیں کہ ان کے کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں۔یہ مسلمہ روایتیں ہیں تمام امت مسلمہ ان سے واقف ہے۔پس دو نماز میں خصوصیت سے اس موقع پر قابل توجہ ہیں ایک جمعہ کی نماز اور ایک صبح کی نماز۔ان دونوں نمازوں میں عورتوں کو حق ہے کہ اپنی ضرورتوں کو پیش نظر رکھیں ، اپنی نسوانی حوائج کے پیش نظر وہ جو چاہیں طریق اختیار کریں ان سے پوچھا نہیں جاسکتا کہ فلاں نماز میں کیوں نہیں آئیں لیکن جن کو اللہ تعالیٰ اجازت دے اور جن کو ان کا نفس اس بات پر ابھارے کہ باوجود اس کے کہ یہ فلی کام ہے میں مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ ادا کروں ان کے لئے انتظام ضروری ہے۔پس یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔عورتوں کے لئے فرض نہیں ہے کہ وہ جمعہ کی نماز باجماعت پڑھیں ،عورتوں پر فرض نہیں ہے کہ وہ صبح کی نماز باجماعت ادا کریں لیکن یہ ایک نفلی کام ہے جس میں ان کو از خود یہ خواہش پیدا ہو سکتی ہے کہ یہ نماز بہت اعلیٰ درجے کی نماز ہے جو جماعت کے ساتھ ادا کی جائے اور اس پہلو سے ہمیں چاہئے کہ اس نماز میں شامل ہوں۔اس مضمون میں اور بھی حدیثوں پر تشخص کیا تو یہ بات مجھ پر کھل گئی اور اس کے پیش نظر میں نے اپنے گھر کے ایک طریق کو اب بدل لیا ہے۔بعض خواتین شاید حیران ہوں گی کہ میں نے کیوں ان کا گھر میں او پر جمعہ کی نماز کے لئے آنا بند کر دیا ہے۔اس سے پہلے یہ رواج تھا کہ جمعہ کی نماز پر