خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 762 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 762

خطبات طاہر جلد 16 762 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء ہیں کہ میں نے آنحضرت میہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس نہر گزررہی ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ بار نہائے تو اس کے جسم پر کوئی میل رہ جائے گی۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کو ئی میں نہیں رہے گی۔آپ نے فرمایا یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہ معاف کرتا ہے اور کمزوریاں دور کر دیتا ہے۔اس میں کچھ باتیں توجہ طلب اور تشریح طلب ہیں۔پہلی بات یہ کہ اگر گھر کی پڑھی جانے والی نماز میں مراد ہو تیں تو اس پر یہ مثال صادق نہیں آتی کہ جس کے گھر کے پاس ایک دائم نہر بہہ رہی ہو اور پانچ وقت وہ اس میں غوطے لگائے۔اس سے میرے نزدیک اولین مراد یہ ہے کہ نماز با جماعت کی اہمیت واضح فرمائی گئی ہے یعنی ایک ایسا شخص جس کے قریب ہی مسجد موجود ہو وہاں پانچ وقت جا کر روحانی غوطہ زنی کر سکے اور مسجد میں جا کر با جماعت نماز میں اپنے روحانی جسم کو خوب نہلائے دھلائے کیا ممکن ہے کہ ایسے شخص پر کوئی میل رہ جائے؟ اگر اس مثال کو نماز با جماعت پر ممند نہ کریں تو پھر ستم یہ دکھائی دے گا کہ ہر گھر میں ساتھ کونسی نہر بہتی ہے۔نہا تا تو وہ گھر کے اندر ہی ہے تو پھر یوں گھر میں سے نہر گزررہی ہے۔اس لئے بعض دفعہ روایت بیان کرنے والے اسی روایت کے ایک حصے میں بعض لفظ بھول جاتے ہیں اور مضمون کا ایک حصہ ایک اور طرف اشارہ کرتا رہتا ہے اور دوسرا حصہ ایک دوسری طرف اشارہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔پہلا حصہ بالکل واضح ہے اس میں ایک ذرہ بھی شک نہیں۔اگر کسی کے گھر کے پاس نہر بہہ رہی ہو اور وہ گھر سے نکل کر اس نہر میں جائے ، وہاں غوطہ زنی کرے تو ایسے شخص کو جو فرحت محسوس ہو سکتی ہے اور جس طرح اس کے جسم کے داغ دھل جائیں گے یہ بات ہمیشہ اسے تازہ دم رکھے گی اس کا جسم صاف ستھرا اور پاکیزہ رہے گا یہ اس روحانی حسن کی طرف اشارہ ہے جو مسجد میں جا کر ہی نصیب ہوسکتا ہے۔اس کے معابعد جو یہ فرمایا کہ یہی مثال پانچ صلى الله نمازوں کی ہے۔مراد یہ تھی یا غالبا روایت کرنے والے سے چوک ہوئی یا رسول اللہ ﷺ نے یہ توقع رکھی کہ از خود لوگ سمجھ جائیں گے کہ اس سے کیا مراد ہے یہی مثال پانچ با جماعت نمازوں کی ہے۔اگر لفظ با جماعت اس میں داخل کر دیں یا داخل سمجھ لیں تو مضمون مکمل ہو جاتا ہے۔اس پہلو سے جب میں نے مزید غور کیا تو مجھے معلوم یہ ہوا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا اپنا گھر مسجد کے ساتھ ہی تھا اور وہ اہم نمازیں جن میں عورتیں باجماعت شرکت کرسکتی تھیں مثلاً جمعہ کی اصلى الله