خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 744
خطبات طاہر جلد 16 744 خطبہ جمعہ 10 اکتوبر 1997ء آپ کو بتایا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے آلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کے ذریعے بار بار خوشخبری دی اور اس کے بعد میں نے فکر کرنا بند کر دیا۔اس واقعہ کے بعد ہر جمعہ خدا تعالیٰ کوئی تازہ نشان ضرور دکھاتا ہے اور آج کا نشان انہوں نے یہ بتایا کہ وہ سیکرٹری جنرل جو بو جنگ صاحب کے بعد سب سے زیادہ شرارت کر رہا تھا اور بہت تکبر سے کام لے رہا تھا آج گیمبیاریڈیو میں اعلان ہوا ہے کہ اس کو برطرف کر دیا گیا ہے۔پس یہ ایک چھوٹی سی بات سہی مگر امید ہے کہ اس کے نتائج بہت دور رس نکلیں گے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو بھی انعام ملے، جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا ، ہم تو اس رسول ﷺ کے غلام ہیں جو بارش کے پہلے قطرے کو بھی اپنی زبان پر لیا کرتا تھا۔اس لئے نشان خواہ آپ چھوٹا سمجھیں یا بڑا سمجھیں جو اللہ کا فضل ہے وہ اللہ ہی کا فضل ہے، اسی کی دین ہے، اس پر ہمیں ہمیشہ شکر گزار رہنا چاہئے۔اس جمعہ کے تعلق میں مجھے خیال تھا کہ میں کوئی اہم مضمون بیان کروں جو Friday the 10th کی نسبت سے موزوں ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اسے اتفاق سمجھیں گے مگر میں ایک الہی اشارہ سمجھتا ہوں کہ چند دن پہلے دو بڑی جماعتوں کی طرف سے مجھ سے مطالبہ ہوا کہ اس سال ان کے لئے کوئی ایسا ٹارگٹ مقرر کروں ، ایسا سمح نظر بیان کروں کہ جس میں وہ ساری دنیا کی جماعتوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ان میں ایک جرمنی ہے اور ایک امریکہ۔ان دونوں نے درخواست کی کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیں کہ ہم اس میں غیر معمولی محنت کر کے سب دنیا سے آگے بڑھ جائیں۔تو اس وقت مجھے خیال آیا کہ وہ غیر معمولی کون سی ایسی محنت ہو سکتی ہے جو سب محنتوں پر فائق ہو تو دماغ میں نماز ہی ابھری اور مجھے خیال آیا کہ نماز سے بہتر اور کوئی تلقین ممکن نہیں۔اس لئے دونوں جماعتوں کو آج میں نماز کا ٹارگٹ دیتا ہوں کہ نماز میں غیر معمولی محنت کریں اور تمام خدام اور انصار بھی جو ان کے زیر اثر ہوں اور بچے اور عورتیں جن تک یہ پیغام پہنچایا جا سکے سب پر نماز کے بارے میں محنت کریں کیونکہ وہ مرکزی چیز ہے، اگر یہ سنور جائے تو سب کچھ سنور جائے گا۔نماز ہی در اصل عبادت کا معراج ہے۔نماز پر جتنا بھی غور کریں اتنا ہی کم ہوگا اور ہر غور کے نتیجے میں نئے نکات سامنے آتے ہیں، نئی گہرائیوں میں انسان کا ذہن اترتا ہے، نئے عروج حاصل کرتا ہے اور نماز وہ جگہ ہے جہاں بلندی اور پستی اپنے عروج اور مزاج کے انکسار کی وجہ سے ایک ہو۔