خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 729
خطبات طاہر جلد 16 729 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء کرتا رہا ہوں۔حضرت چوہدری شاہنواز صاحب کی ایک ایسی عظیم خوبی تھی ، خاموش اور دکھاوے سے بالکل پاک، کہ جن لوگوں کو وہ اپنے کاموں میں تربیت دیتے تھے ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ وہ اپنا الگ کام بنائیں اور کبھی بھی ان سے ادنی سا بھی حسد محسوس نہیں کیا۔چنانچہ جماعت میں بہت بڑے بڑے ایسے قربانی کرنے والے لکھ پتی، بعض اب کروڑ پتی ہو چکے ہیں ، وہ سب چوہدری شاہنواز صاحب کی اس خوبی کا ثمرہ ہیں اور میں ہمیشہ بڑی عزت کی نگاہ سے اس بات کو دیکھتا تھا کہ خود ہی امیر نہیں بلکہ دوسروں کو امیر بنانے کے لئے ایک دلی تمنار کھتے تھے اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ آزاد ہو جاتا تھا۔یہی خوبی الیاس صاحب میں بھی میں نے دیکھی ہے اور شروع سے ہی میری اس بات پر نظر تھی کہ یہ ایسے احمدی دوستوں کو تربیت دیتے رہے جن میں انہوں نے مادہ پایا اور تربیت دینے کے بعد ان کو اسی کام میں جو ان کا اپنا تھا آزاد چھوڑ دیا اور قطعا ذرہ بھی رقابت محسوس نہیں کی۔چنانچہ لطف الرحمن صاحب جن کا ذکر بار ہا آچکا ہے وہ انہی کی اسی خوبی کا ثمرہ ہیں۔شروع میں ان کو جو آئل فیلڈز وغیرہ کے معاملات میں یعنی تیل کے سرچشموں کو استعمال کرنے اور ان کی فنی ضرورتوں کو مہیا کرنے میں چوہدری الیاس صاحب نے بہت کام کیا ہے۔اسی طرح ہمارے ایک اور مخلص دوست ہیں وسیم صاحب ان کو بھی چوہدری الیاس صاحب ہی نے بنایا اور وسیم نے بھی بعض ایسے کام خود اپنے ذمے لئے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت قربانی کا ایک مقام رکھتے ہیں۔مشرقی یورپ میں مساجد کی تعمیر کے لئے انہوں نے پندرہ لاکھ ڈالر اپنی طرف سے پیش کئے اور اصرار کے ساتھ منوا کر چھوڑا۔اس میں بھی شرط یہی تھی کہ دوسرے بھی چندے دیں میں انکار نہیں کروں گا۔چنانچہ اللہ کے فضل سے اب وہ رقم سب چندے ملا کر تمیں لاکھ ڈالر سے بڑھ چکی ہے اور اسی قدر ہماری ضرورتیں بھی بڑھ چکی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کی مالی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے حیرت انگیز کام دکھا رہا ہے۔اسی ضمن میں ایک اور بات بھی میں آپ کو بتاؤں کہ جو کتاب میری اس وقت زیر نظر ہے یعنی جس کا ذکر میں بار بار کرتا رہا ہوں وہ دراصل میری ساری زندگی کے حصول علم کا ایک خلاصہ ہے اور وہ خلاصہ آج کل کے زمانے کی ضرورتوں کے اوپر بعینہ اطلاق پاتا ہے۔اس پر میں اس لئے زور دے رہا ہوں کہ اس کتاب کی طرف غیر معمولی توجہ کا سبب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر ہے جو میں آپ کے سامنے پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ میں سے جو بھی