خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 728 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 728

خطبات طاہر جلد 16 728 خطبہ جمعہ 3 اکتوبر 1997ء حصہ لینا چاہیں تو ان کو اجازت ہے اور ان کو خوش آمدید کہتا ہوں۔چنانچہ میں نے بھی ذاتی طور پر اس میں تبر کا کچھ حصہ ڈالا ہے مگر شرط وہی ہے کہ اگر جماعت ایک پیسہ بھی نہ دے تو لطف الرحمن صاحب انشاء اللہ اکیلے ہی اس مسجد کی تعمیر کریں گے اور جو روپیہ جماعت دے گی اسے مسجد میں ڈال کر باقی ضرورتیں انہی کی طرف سے پوری کی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزاء دے اور جماعت میں ایسے مخلصین بہت پیدا فرمائے جو بڑے بڑے کاموں کوا کیلے سنبھال لیں۔اس ضمن میں ایک عرض میں یہ کرنی چاہتا ہوں کہ جماعت کینیڈا کی مالی قربانی میں میں نے اس دفعہ بہت نمایاں فرق دیکھا ہے۔اس پہلو سے کہ پہلے بعض اکیلے اکیلے ایسے لوگ جو متمول تھے وہ ان کی ضرورتیں پوری کر دیا کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جماعت کا چندہ کافی ہو گیا۔میں نے امیر صاحب کو چند سال پہلے توجہ دلائی تھی کہ ہمیں لوگوں کی ذات میں دلچسپی ہے نہ کہ مال میں دلچسپی۔اگر سارے افراد جماعت مالی قربانی میں پیش پیش نہ ہوئے تو بڑا بھاری نقصان ہے۔چند عمارتیں مکمل ہونا یہ کوئی اخلاص کی نشانی نہیں، چند آدمیوں کے اخلاص کی نشانی ہے مگر جماعت محروم رہے گی اور اس کی دینی تربیت میں بھی فرق پڑے گا۔اس لئے آپ یہ زور دیں کہ ہر فرد بشر مالی قربانی میں شامل ہو۔اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے اس دورے میں بہت نمایاں فرق دیکھا ہے۔اور ملاقات کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ ملاقات کی جو فہرستیں تیار ہوتی ہیں ان میں میری ہدایت کے مطابق اس شخص کی مالی قربانی کا ذکر موجود ہوتا ہے۔بہت کم ایسے احباب تھے جو مالی قربانی میں معیار سے گرے ہوئے تھے نسبت کے لحاظ سے بہت کم تھے لیکن ان کا بھی اخلاص بہر حال خدا تعالیٰ کے فضل سے بلند تھا۔جس کو بھی میں نے توجہ دلائی اس نے بلا تاخیر وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی اس معاملے میں مجھے ان سے شکایت نہیں ہوگی۔پس جماعت کینیڈا کا مالی نظام معلوم ہوتا ہے مستحکم ہو چکا ہے۔اس ضمن میں جو غیر معمولی اخلاص سے خدمت کرنے والے لوگ تھے جنہوں نے شروع میں بہت بوجھ اٹھائے ان میں سے ایک ایسا ذکر ہے جو میں اپنے طور پر کر رہا ہوں۔ان صاحب کی ہرگز خواہش نہیں ہوتی کہ ان کا نام بتایا جائے مگر ان کے کچھ ایسے حالات ہیں، بیٹے کی وفات کی وجہ سے غم کے حالات، کہ وہ خاندان آپ کی دعاؤں کا محتاج ہے۔میری مراد چوہدری الیاس صاحب۔کے اندر ایک ایسی خوبی پائی جاتی ہے جو میں ہمیشہ چوہدری شاہنواز صاحب مرحوم کے متعلق بیان ان