خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 719 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 719

خطبات طاہر جلد 16 719 خطبہ جمعہ 26 ستمبر 1997ء میں بھری پڑی ہیں، پڑھنے والے کو صاف سمجھ آجانا چاہئے تھا یا جس نے زبان درست کی ہے اسے سمجھ آ جانا چاہئے تھا کہ یہاں ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو درست کریں۔اب سلیشیا کے متعلق اس میں لکھا ہوا ہے کہ سلیشیا اس احساس کو دوبارہ زندہ کرتی ہے اور اس کے سوا ایک ایسی عبارت ہے کہ گویا مہر بیرونی چیز کو پگھلا دیتی ہے اب یہ بالکل غلط بات ہے۔میں نے مضمون سمجھایا تھا، کیڑوں کو اور بعض جانوروں کو جن کو یہ باہر نہیں پھینک سکتی ان کو پگھلاتی ہے۔جن کو باہر پھینک سکتی ہے وہاں پیپ بنا کر ان کو باہر پھینک دیتی ہے تو کتاب کے اندر یہ لکھا گیا ہے کہ یہ چیزوں کو پگھلا دیتی ہے۔چیزوں میں تو پتھر بھی ہے کنکر بھی ہے، بندوق کی گولیاں ، چھرے بھی شامل ہیں۔یہ ہرگز ان کو نہیں پگھلاتی۔جن کو باہر پھینکنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یا پھینکنا چاہے تو وہ پھینکے نہیں جاسکتے اس لئے ان کو اندر ہی پگھلا دیتی ہے۔مثلاً پاؤں کے اندر بعض کیڑے ہیں Filariasis کے کیڑے کہلاتے ہیں جن میں پاؤں سوج جاتا ہے اور ان کو پورے کے پورے کیڑوں کو باہر نکالنا نہ کسی جراح کے بس کی بات ہے نہ سلیشیا کے بس کی بات ہے۔سلیشیا یہ کام ضرور دکھاتی ہے کہ ان کیڑوں کو اندر ہی پگھلا دیتی ہے، وہ پانی بن کے بہہ جاتے ہیں، ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اب یہ وہ چیزیں ہیں جو میں اپنی تقریروں کے درمیان کھول چکا ہوں اور اگر بیان کرنے میں غلطی ہوگئی ہے تو ہر شخص جس نے اردو درست کرنی تھی اس کا فرض تھا کہ اس کو درست کر کے پیش کرتا۔اب مثلاً انتریوں کے متعلق یہ لکھا ہوا ہے کہ انتڑیاں بیرونی جلد تک اثر دکھاتی ہیں، ناک کی جلد خشک ہو جاتی ہے۔حالانکہ کہنا یہ تھا، جو شاید میں نے کہا بھی ہو مجھے یاد نہیں، کہ انتڑیاں جو خود اندرونی جھلیاں ہیں، بعض دفعہ انتڑیوں کی بیماریاں اگر ٹھیک نہ ہوں بلکہ انتڑیوں سے صرف ان کو دھکیلا جائے تو وہ بیرونی جلد یعنی ناک کے کنارے پر اپنا اثر دکھاتی ہیں۔اسی طرح انتریوں کی بیماریاں بعض اوقات منہ پر اپنا اثر دکھاتی ہیں۔منہ کے اندر جو نقشہ بنتا ہے اس سے آپ انتڑیوں کی بیماریاں پہچان سکتے ہیں۔اسی طرح رحم کی بیماریاں ہیں۔کہنا یہ تھا اور یہ دوبارہ میں سمجھا رہا ہوں کیونکہ عبدائی صاحب نے اس پر کام بھی کرتا ہے۔مقصد یہ تھا کہ دو قسم کی سطحیں ہیں جو بدن کو عطا ہوئی ہیں۔بیرونی سطح کو ہم جلد کہتے ہیں اندرونی سطح کو جھلی کہتے ہیں۔تو بعض بیماریاں ایسی ہیں جن کا جلد سے بھی تعلق ہے اور اندرونی سطح یعنی جھلیوں سے بھی تعلق ہے اور بعض دفعہ یہ دونوں جگہ ظاہر ہورہی