خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 66 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 66

خطبات طاہر جلد 16 66 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء میں جاری ہو جائے تو دنیا و مافیہا سب کچھ میسر آ گیا اور قرآن کے مطالب بھی سورہ فاتحہ پر غور کرنے اور اس کی محبت کے نتیجے میں عطا ہوتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ کبھی بھی کسی کو قرآن کے مطالب نصیب نہیں ہو سکتے جسے سورہ فاتحہ سے محبت نہ ہو اور جو سورہ فاتحہ کوغور کرتے ہوئے نہ پڑھے اور یہ بھی ایک چابی ہے ایسا پاک ہونے کی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ قرآن کا عرفان نصیب کرے تو پہلے تو الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کا مضمون ہے۔روزے کے ساتھ تو ربوبیت کا خاص تعلق ہے۔سب تعریف اس ذات کی ہے جو رَبُّ العلمین ہے۔رَبُّ الْعَلَمِین کے مضمون پر آپ جتنا غور کریں یہ ایسا مضمون ہے ہی نہیں جو ایک نماز یا ایک رات کی نمازوں یا ساری زندگی کی نمازوں میں بھی حل ہو سکے اور اپنے اختتام کو پہنچ سکے۔ربوبیت کا مضمون ساری کائنات سے تعلق رکھتا ہے اور دعویٰ بھی یہ نہیں فرمایا کہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبّی میں اللہ کی مد کرتا ہوں جو میرا رب ہے۔دعوی یہ فرمایا گیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمينَ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔تمام جہانوں کا رب ہے تو پھر ہمیں اس سے کیا۔سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے سارا جہان تعریف کرے ہم کیوں تعریف کریں لیکن جب اور غور کریں اس مضمون پر اور مزید غور کریں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ سارے عالمین آپ کی خاطر پیدا کئے گئے ہیں قرآن کریم اس بات کو خوب کھول رہا ہے۔تو جس کو حد سکھائی ہے اس کو یہ سمجھنا چاہئے کہ مجھے سارے جہاں کے پالنے والے کی حمد کیوں سکھائی گئی۔اس لئے سکھائی گئی کہ سارے جہانوں کا رب، اس لئے سارے جہانوں کا رب ہے کہ ان جہانوں سے انسان پیدا ہونا تھا اور سارے جہانوں کی ربوبیت انسان کی طرف لے جانے کے لئے بے انتہا منازل ہیں جن کا گننا ممکن ہی نہیں ہے۔آغاز آفرینش سے لے کر اس ارتقاء کے معراج تک جس پر آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے اور اس معراج کے وقت پیدا ہوئے کا لفظ تو معمولی لفظ ہے اس لئے میں اس سے اجتناب کر رہا ہوں۔یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ارتقاء کے معراج کے وقت جس پر آنحضرت ﷺ رونما ہوئے ، آپ جلوہ گر ہوئے ، آپ کے وجود کو ساری دنیا پر نور الہی کے طور پر روشن کر دیا گیا اس مقام تک اس سے پہلے پہلے تمام جہانوں کی جس حد تک بھی تربیت ہوئی ہے وہ ساری تربیت اسی منزل کی طرف تھی۔