خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 710 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 710

خطبات طاہر جلد 16 710 خطبہ جمعہ 26 ستمبر 1997ء جاتا ہے مگر گرمیوں میں وہاں بھی گرمی ہی ہے اور زیادہ گرمی نہ سہی کم گرمی ہوگی مگر یہ سارا علاقہ الاسکا کا ایک خشک علاقہ ہے۔اس کا ناروے کے شمال سے کوئی مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ناروے کا شمال ایک انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جو جھیلوں سے مرقع ہے، جہاں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں، جہاں ہر موڑ پر نئے چشمے دکھائی دیتے ہیں۔وہ ایک ایسا علاقہ ہے جس کا بیان بھی یہاں ممکن نہیں مگر خدا تعالیٰ کی صناعی کی ایک حیرت انگیز مثال پیش کرتا ہے۔وہی تصور لئے ہوئے ہم الا سکا آئے تھے۔اگر چہ وہ تصور تو منہدم ہو گیا مگر معلومات میں اضافے کا جہاں تک تعلق ہے وہ اپنی جگہ اسی طرح قائم ہے۔بہت سی نئی معلومات یہاں کی زندگی کے متعلق، یہاں کے حالات کے متعلق ، یہاں کے جانوروں کے متعلق ایسی حاصل ہوئی ہیں کہ جن کا پہلے سے کتابی علم کے نتیجے میں ہمیں کچھ علم نہیں تھا۔پس احباب جماعت کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ سفر بیکار گزرا۔وہاں بھی بعض بہت خوبصورت علاقے تھے اس میں کوئی شک نہیں۔بہت سی جھیلیں بھی تھیں۔بہت سے پانی کے بہتے ہوئے دریا ، یا در یا نماشکل کے کچھ نالے بھی تھے۔مگر ان کا تعلق اس برف سے ہے جو بہت تھوڑی پڑتی ہے مگر سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے اسی طرح رہ جاتی ہے اور گرمی کے مہینوں میں وہی برف آہستہ آہستہ پکھل کر یہ جاری رہنے والے دریا بنا دیتی ہے اور درختوں کی زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔بہر حال یہ وہ تفصیل ہے جس میں میں اس وقت جانا نہیں چاہتا صرف مختصراً آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ الاسکا ایک الگ دنیا ہے اور جب تک انسان یہاں خود آئے نہ ، اسے کتابوں میں پڑھ کر اس دنیا کا پورا تصور نہیں ہوسکتا۔خشک ترین علاقہ جو شمال تک جاتا ہے یہ الاسکا ہے۔اسے غالباً 1840 ء یا اس کے لگ بھگ روس نے امریکہ کے پاس بیچ دیا تھا لیکن روس کا اپنا علاقہ جو الاسکا سے ملا ہوا ہے وہ بہت زیادہ شمال تک بلکہ قطب شمالی کے قریب تک پہنچتا ہے اور اس پر روس کا مکمل قبضہ ہے۔اس کے مقابل پر کینیڈا کا جو مالی حصہ ہے وہ ناروے کے نارتھ کیپ سے بھی بہت آگے بڑھا ہوا ہے اور اس کا ایک شمالی علاقہ ایسا ہے جو ہمیشہ منجمد برف کے اوپر واقع ہے اس کا نام الرٹ (Alert) ہے غالباً اور یہ دراصل الرٹ ان معنوں میں ہے کہ دفاعی ضروریات کے لئے اور بعض سائنسی تحقیقات کے لئے وہاں کینیڈا نے اپنے دائمی سٹیشن بنارکھے ہیں۔اس سٹیشن پر ہمارے ایک احمدی دوست حمید اللہ شاہ صاحب بھی متعین رہے ہیں اور وہ اس علاقے کے متعلق پہلے بھی مجھے لکھا کرتے تھے کہ گرمیوں میں بھی اور سردیوں میں بھی