خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 65
خطبات طاہر جلد 16 65 خطبہ جمعہ 24 /جنوری 1997ء برقرار رکھنا ایک بڑا اہم تقاضا ہے اور راتوں کو اٹھ کے جو احتساب کیا جاتا ہے وہ اس پہلو سے احتساب کیا جاتا ہے۔اس کے طریق کار میں غالباً پہلے بعض خطبات میں بیان کر چکا ہوں لیکن آج خصوصیت کے ساتھ آپ کے سامنے رات کی نمازوں کا طریق بیان کرتا ہوں کیسے پڑھی جانی چاہئیں۔احتساب کے لئے تو باقی سارا قرآن کریم ہے ہی مگر ایک سورۃ فاتحہ ہی کافی ہے۔سارے قرآن کریم کے مضامین کی کنجیاں سورہ فاتحہ میں ہیں اسی لئے اس کا نام فاتحہ بھی ہے یعنی کھولنے والی۔وہ کتاب جس کے اندر ہر نیکی کی کنجی، ہر معرفت کی کنجی ہے اور سارے قرآن کی کنجی اس میں ہے۔پس اس پہلو سے اگر آپ سورۃ فاتحہ ہی کو اس رمضان میں اپنا مطمح نظر بنالیں اور سورہ فاتحہ پر غور کرتے کرتے اپنی راتیں گزاریں تو بہت ہی کامل عبادت ہے اور کوئی پہلو بھی آپ کی ضرورت کا باقی نہیں رہے گا جو سورۂ فاتحہ کے حوالے سے پورا نہ ہو جائے ناممکن ہے کہ اس سے آپ کو رمضان کے اعلیٰ مقاصد حاصل نہ ہوں اور اس طرح غور کرتے ہوئے اگر آپ رمضان گزاریں گے تو واقعہ وہ عید جو بعد میں آنے والی ہے وہ آپ کی پیدائش کی عید بن جائے گی۔ایک نئی روحانی پیدائش ہوئی ہے جس طرح اس پر خوشیاں منائی جاتی ہیں گویا عید ہر اس مومن کی پیدائش کی عید بن جاتی ہے جو رمضان مبارک میں روحانی طور پر دوبارہ پیدا ہوتا ہے۔سورۃ فاتحہ میں سب سے پہلے تو خدا تعالیٰ کی صفات ہیں اور اکثر انسان چونکہ روز پڑھتے ہیں اس لئے روز ایک غفلت کی نظر کے ساتھ گزرنا شروع کر دیتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں یہ چار صفات تو ہم نے پڑھی ہوئی ہیں بار بار پڑھتے ہیں کیا ضرورت ہے ٹھہرنے کی۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ اگر ٹھہرتے ہیں تو اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے بعد إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ پر ٹھہرتے ہیں بس۔کہ تجھ سے ہی مدد مانگیں گے اور مدد مانگ کے پھر آگے صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پر بھی غور کی ضرورت نہیں کہ جس رستے کے لئے مدد مانگی ہے اس کے تقاضے کیا ہیں۔تو در حقیقت سارا قرآن رمضان کی خاطر اترا ہے اور سارے قرآن کے مضامین رمضان پر اطلاق پاتے ہیں اور سورۃ فاتحہ سارا قرآن ہے یہ وہ مضمون ہے جو میں نے آپ کے سامنے کھول کے آپ کو اس سے استفادے کی نصیحت کرتا ہوں اور طریق سکھاتا ہوں۔سورۃ فاتحہ آپ کی جان بن جائے ، سورۃ فاتحہ آپ کے ذہن پر چھا جائے ، آپ کے اعمال