خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 696
خطبات طاہر جلد 16 696 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء حیرت انگیز عام انسان سے ہٹ کر ایک الگ راہ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ کی یہ تقدیر بھی ایسے بندے کے لئے عام قوانین سے ہٹ کر ایک الگ راہ اختیار کرتی ہے اور حیرت انگیز واقعات پیدا ہوتے ہیں جس کو دنیا سمجھ نہیں سکتی کہ کیوں ایسا ہوا کیونکہ بظاہر دنیا کے قوانین کے مطابق نہیں ہوا کرتے۔جیسے انسانی فطرت کے قوانین سے ہٹ کر ایک شخص نے خدا کی خاطر کام کیا اسی طرح اللہ اپنے قوانین سے بالا اور بظاہر ان سے ہٹ کر ایک کام کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو اپنے قوانین توڑنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔اس کے قوانین کے دائرے ہیں جو ایک کے بعد دوسرے دائرے اس طرح چلتے ہیں کہ نچلے دائرے والے لوگ اوپر کے دائرے کے کاموں کو نہیں سمجھ سکتے۔اور ایک دوسری بات یہ نہ سمجھنے کی کہ ایک خارق کس طرح وجود میں آتا ہے یہ ہے کہ اس زمانے کی سائنس کے مطابق ایک بات ناممکن الوقوع ہے اگر وہ بات ہوئی تو گویا اس نے سائنس کے تخمینوں کو توڑ کے رکھ دیا اور ایسی بات ہونا ممکن ہی نہیں لیکن ہزار سال بعد یا دو ہزار سال بعد پھر سائنسدانوں کی نظر انہی واقعات پر پڑتی ہے تو وہ سمجھ لیتے ہیں اور بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سے غیر معمولی واقعات ہوئے تھے جنہوں نے اپنے وقت میں ایک اعجاز دکھایا، ایسا اعجاز جو قانون قدرت میں عموماً ممکن نہیں ہے۔بہت سی مثالیں اس وقت میرے ذہن میں بھی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ خطبہ لمبا ہو جائے گا ان کو میں چھوڑتا ہوں، کچھ ایسی مثالیں ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خودا اپنے اس کلام میں دے دی ہیں۔پس میں سر دست انہی پر اکتفاء کروں گا۔فرماتے ہیں: اس کی پیروی کرنے والے کو معجزات اور خوارق دئے جاتے ہیں اور وہ اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ دنیا ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی چنانچہ میں یہی دعویٰ رکھتا ہوں۔یہ دعوی ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا: چنانچہ میں یہی دعویٰ رکھتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ اگر دنیا کے تمام مخالف، کیا مشرق کے اور کیا مغرب کے ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور نشانوں اور خوارق میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہیں تو میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اور توفیق سے سب پر غالب رہوں گا اور یہ غلبہ اس وجہ سے نہیں ہوگا کہ میری