خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد 16 کا 64 خطبہ جمعہ 24 جنوری 1997ء صلى عليه انقصان نہ پہنچنے دے، مزے کرو پھر ۔ یہ بے تعلق بات ہے اس کا آنحضرت ﷺ کی حکمت کاملہ سے کوئی بھی تعلق نہیں ۔ صلى الله سلام آنحضور علی تو اللہ کے نور سے دیکھنے وا۔ والے وجود ہیں اور جو خدا کے نور سے در رسے دیکھتا ہے وہ صلى الله حکمت سے عاری بات کیسے کر سکتا ہے۔ پس حضور اکرم ﷺ رمضان کے تعلق میں جب فرماتے ہیں کہ رمضان اچھا گزر گیا تو سال گزر گیا یہی مضمون جب لیلۃ القدر کے حوالے سے آپ کے سامنے آئے گا تو پتا چلے گا کہ پھر ایک رمضان کی ، ایک سال کی بات نہیں رہے گی وہ رات اچھی گزر گئی تو ساری زندگی اچھی گزر گئی۔ پس جہاں رمضان کا ایک مہینہ ایک سال پر اپنی نیکیوں اور خوبیوں کے لحاظ سے پھیل جاتا ہے وہاں لیلتہ القدر کی ایک رات ساری زندگی پر اپنے نور کے ساتھ پھیل جاتی ہے۔ وہ صبح طلوع ہوتی ہے جو پھر موت کے ساتھ ہی ختم ہوتی ہے بیچ میں کبھی کوئی اور رات نہیں آتی۔ یہ وہ مضامین ہیں جو رمضان کے تعلق میں آپ کو گہری نظر سے دیکھنے چاہئیں اور روزمرہ کی زندگی میں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان سے استفادہ کرنا چاہئے اور طریق کار کیا کیا ہیں احتساب کے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہوئے احتساب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نمازیں پڑھتا ہے۔ پس راتوں کو اٹھنا عبادت کی خاطر اور عبادت اس صلى الله عروسة ۔ لئے کرنا کہ اپنا احتساب کریں یہ وہ مضمون ہے جس کو حضور اکرم ا نے کھولا ہے اور اس کے نتیجے میں بھیجے استغفار، بخشش ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہ اجر کی خاطر کرو تو بخشے جاؤ گے اس طرح رمضان گزارو تو پھر بخشش ہوگی۔ اور اس بخشش کا مرتبہ اور مقام کیا ہے اس کو بیان کرتے ہوئے نسائی کتاب میں حضرت عبدالرحمن بن عوف کی یہ روایت ہے کہ جو شخص رمضان کے مہینے میں حالت ایمان میں احتساب کرتے ہوئے روزے رکھتا ہے اور اخلاص کی خاطر ، اخلاص کے ساتھ عبادت کرتا ہے وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے اس روز تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا یعنی پیدائش کے وقت جس طرح وہ گناہ کے داغوں سے بالکل معصوم اور پاک ہوتا ہے گویا ایک نئی روحانی پیدائش اس کو نصیب ہوتی ہے جس میں کوئی بھی پرانا داغ باقی نہیں رہتا۔ تو ہر سال پیدا ہو کر پھر کیا ہر سال مرنا ہی آپ نے اپنا مقدر بنانا ہے۔ ایک دفعہ پیدا ہو گئے یعنی روحانی دنیا میں تو اس معصومیت کو