خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 693
خطبات طاہر جلد 16 693 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء آپ کو پڑھ کے سنائے کہ دیکھو جب پہلا ابتلا آیا تو جماعت کے چندے ہزاروں میں تھے۔جب دوسرا بڑا ابتلا آیا تو لاکھوں میں تھے۔جب تیسرا بڑا 1974 ء والا ابتلا آیا تو کروڑوں میں داخل ہو گئے اور اب جو عالمگیر سطح پر جماعت کے خلاف ایک مخالفت کا ہنگامہ اٹھا ہے، اس لئے اس کے پیش نظر مجھے یقین تھا کہ اگلی صدی سے پہلے جماعت کروڑوں کی بجائے اربوں میں داخل ہو جائے گی۔پس جو حالات اب دکھائی دے رہے ہیں ان کے نتیجے میں میں یقین سے آپ کو کہتا ہوں کہ انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔دو تین سال کی بات ہے آپ بھی دیکھیں گے اور میں بھی دیکھوں گا اور سب دنیا دیکھے گی۔جہاں تک جماعت احمد یہ کینیڈا کے کاموں کا تعلق ہے کچھ شکوہ بھی آپ سے کرنا ہے۔کہتے ہیں نا خوگر حمد ہم سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔آپ لوگوں نے بہت وعدے کئے تھے ، انفرادی طور پر بھی مجھے خط لکھے اور جماعتی طور پر بھی ریزولیوشن پاس کئے کہ ہم تبلیغ کے میدان میں انشاء اللہ بہت آگے قدم بڑھائیں گے لیکن جو رپورٹیں مجھے مل رہی ہیں ان رپورٹوں میں ان وعدوں کے پورا کرنے کی طرف کوئی معین قدم نہیں اٹھائے جار ہے۔حالانکہ جو وعدے کئے گئے ہیں وہ انفرادی طور پر مشکل نہیں ہیں۔تبلیغ کا نظام قطروں کی طرح چلتا ہے اور قطرہ قطرہ گرنے سے بعض دفعہ بڑے بڑے سمندروں میں بھی طوفان برپا ہو جاتے ہیں۔پس بارش قطروں کی طرح بنتی ہے اور آسمانی فیض کی بارش بھی جو خدا تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ منسلک ہوتی ہے وہ بھی قطروں کی طرح ہوتی۔پس جتنے بندے خدا کی راہ میں اپنے قطرات پیش کریں اس سے بہت زیادہ آسمان سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش برسا کرتی ہے۔یہ ایک خیالی بات نہیں، کوئی رومانی تصور نہیں، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو میں نے ہمیشہ دیکھا اور اگر تاریخ مذہب کا مطالعہ کریں تو آپ کو اس حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت دکھائی نہیں دے گی۔قطروں کا آغاز جو آسمانی رحمت کے قطرے ہیں زمین پر بندوں سے ہوتا ہے، افراد سے بات چلتی ہے۔ان کی دعائیں، ان کے دلوں کی پاک تبدیلیاں ابر رحمت کو کھینچ لاتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ جو بے شمار دینے والا ہے وہ گنتی کا حساب چھوڑ دیتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے کثرت سے آسمان سے وہ بارشیں برستی ہیں جو دنیا میں کا یا پلٹ دیا کرتی ہیں، پاک تبدیلیاں پیدا کیا کرتی ہیں۔کینیڈا کے احمدیوں کا فرض ہے کہ اس حقیقت کو جانیں اور پہچانیں اور اپنی انفرادی کوشش کو یعنی ہر فرد بشر اپنی انفرادی کوشش کو اس راہ میں ڈال دے اور دعا کر کے ڈالے اور اللہ تعالیٰ سے یہ عہد ہے۔