خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 684 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 684

خطبات طاہر جلد 16 684 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء گریبان پر مضبوطی کے ساتھ ہاتھ ڈالا اور اس کو زور سے جھٹکا دیا اور دونوں گھتم گتھا ہو گئے۔ جو اس کے فوجی ساتھ تھے انہوں نے اس کو کھینچنے کی کوشش کی اور ان کے ساتھ جو دواحمدی تھے انہوں نے ان کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی لیکن اس کے غیظ و غضب کا یہ حال تھا اور اب یہ جو بعد میں باتیں کر رہا ہے۔ میہ اب سنئے ذرا اس کی کیا باتیں ہوں گی سب کچھ کرنے کے بعد جب وہ چلنے لگے تو اس نے کہا نہیں آپ آجائیں ذرا واپس۔ اس خوف اور ڈراوے نے کوئی کام نہیں کیا تو اس نے کہا کہ دیکھیں جو کچھ بھی ہوا ہے غلط فہمیاں ہوئی ہیں اور پر یس کا نفرنس جو اس نے منعقد کروائی تھی اس میں چالا کی کے ساتھ دو آدمی Plant کئے جو کسی زمانے میں احمدی ہوتے تھے اور ان سے یہ بیان دلوایا کہ جو کچھ جماعت احمدیہ کے سربراہ کو اطلاعات دی جا رہی ہیں وہ سب جھوٹی ہیں۔ ایک آدمی نے اقرار کیا کہ میں خط لکھا کرتا تھا اور میں باتیں منسوب کر رہا تھا حکومت اور وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور کی طرف اور یہ سب جھوٹ تھا اور گویا اس جھوٹ سے طیش میں آکر انہوں نے سب دنیا میں مشہور کر دیا۔ گیمبیا کے متعلق ایسا کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا۔ میں بنایا کرتا تھا اور دوسرے سابق احمدی نے اٹھ کے تائید کی ہاں میرے سامنے کی بات ہے اور واقعہ یہ ہے کہ ایک بھی خط کسی احمدی کی طرف سے، اپنی ذاتی حیثیت میں کسی سیمبین کی طرف سے ایک بھی خط نہیں ملا جس میں ان باتوں میں اس نے الزام تراشی کی ہو۔ اس نے پر یس کا نفرنس میں ان کو کھڑا کر وایا اور گویا پر یس کا نفرنس میں جو رویہ اختیار کیا اس کے متعلق گواہ کے طور پر کہ ان کا مرکز سنی سنائی باتوں کو اس طرح مانتا ہے ہمارا تو کوئی قصور نہیں لیکن جب یہ باتیں شروع ہوئیں تو اسی وقت گیمبیا کے پریذیڈنٹ کا فون ان کو ملا اور اس نے کہا، نہایت گندی زبان امام فاتح کے متعلق استعمال کی ، اس نے کہا وہ خبیث ترین انسان ہے اس نے جھوٹ بولے ہیں، اس نے فساد برپا کئے ہیں اور میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ ان کو بتادو کہ آئندہ سے کبھی اس کو کسی پلیٹ فارم پر احمدیت کے خلاف بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ صرف یہی نہیں بلکہ خود اس وزیر نے اس کانفرنس میں جو دراصل معلوم ہوتا ہے پہلے فیصلہ ہو چکا تھا، اس کا نفرنس میں پھر یہ اعلان کیا کہ احمدیوں کی جان و مال کو کوئی خطرہ نہیں، یہ امام فاتح تھا جو سارے فساد کا بانی مبانی تھا۔ اس کی گندی زبان نے گیمبیا کو پھاڑ دیا۔ اس کی خبیثا نہ باتوں نے گیمبیا کو سیکولر حکومت سے ایک مذہبی جنونی حکومت میں تبدیل کر دیا لیکن اب صدر جامع نے جو اقدامات کئے ہیں ان کے بعد یہ باب بند ہو جانا چاہئے۔ گر