خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد 16 683 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء اب سنئے مباہلے کی قبولیت اور اس پر تقدیر الہی کا حرکت میں آنا۔اسی دوران جو جمعہ سے پہلے گھبراہٹ تھی کہ ابھی تک کیوں نہیں ہوا اس وقت اللہ تعالیٰ نے کئی طریق سے مجھے تسلی دی لیکن سب سے زیادہ تسلی ان الفاظ سے ہوئی الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ اس سے اسی طرح میرے دل میں ندامت پیدا ہوئی اور استغفار کیا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس الہام پر ندامت کا اظہار فرمایا اور استغفار کیا۔وزیر مذہبی امور گیمبیا کا جہاں تک تعلق ہے اس کے متعلق کچھ بیان کرنا اور بدلی ہوئی صورت کے باوجود بیان کرنا ضروری ہے اس بد بخت نے مسلسل اس امام کو غلط باتیں پہنچائیں۔جب یہ ڈرتا تھا مباہلے سے تو اس کو یہ کہتا تھا کہ ضیاء کو تو انہوں نے مروایا تھا اور یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔حالانکہ حکومت پاکستان کو اس بات کا پتا نہیں کہ ضیاء کو کس نے مروایا ہے اس کو پتا تھا، یعنی گویا اس کو پتا تھا اور اسی نے اس بے چارے کو آگے کر کے پاگل بنایا اور تقدیر الہی سے لڑنے پر اس کو آمادہ کیا۔اس کا حال یہ ہے کہ ہمیشہ ہر دفعہ جب کوئی احمدی اس سے ملا ہے اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت کے متعلق لازماً بکو اس کی ہے اور امام فاتح کی پوری طرح تائید کی۔یہی وہ شخص ہے جس نے امام فاتح کے مباہلہ کے بعد ایک پریس کانفرنس کی ہے۔اس پر یس کا نفرنس کے علاوہ اس نے ہمارے احمدی وفد کو اپنے پاس بلوایا۔امیر صاحب اپنے ساتھ دو آدمیوں کو لے کے گئے اور اس نے ان کی موجودگی میں اس بکو اس کو دہرانا شروع کیا اور کہا کہ احمدیوں نے یہ آغاز کیا ہے اور احمدی ایسے ہیں۔ہمارے احمدی امیر بڑے بہادر اور جوان مرد انسان ہیں۔اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔انہوں نے کہا تم بکواس کر رہے ہو اگر یہ بات ہے تو میں اس مجلس سے اٹھ کے جاتا ہوں۔اس قسم کی بدتمیزی کی باتیں اپنے امام کے خلاف نہیں سن سکتا۔اس نے کہا تم نے یہاں آنے سے پہلے اپنے روحانی راہنما سے اجازت لی ہے۔انہوں نے کہالی ہے اور میں ہمیشہ لوں گا کیونکہ میں ان کی اجازت کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا۔اس نے کہا یہ ثابت کرتا ہے کہ تم گیمبیا کے وفادار نہیں ہو۔انہوں نے کہا میں گیمبیا کا وفادار ہوں وہ دنیا کا معاملہ ہے اور یہ روحانیت کا معاملہ ہے۔اس پر وہ بد بخت طیش میں آیا اور اٹھ کر ان کے گریبان پر مضبوطی کے ساتھ ہاتھ ڈالا اور کہا میں تمہیں قتل کروا سکتا ہوں، میں تمہیں ذلیل کر سکتا ہوں اور میں ابھی تمہارے ساتھ وہ کرتا ہوں جو میں نے کرنا ہے۔اس پر انہوں نے اس کے فوجی