خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 674 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 674

خطبات طاہر جلد 16 674 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء نے اس کو مروایا اور اب اگر میں قتل ہوا تو یہ بھی تم لوگوں کے ہاتھ سے قتل ہوں گا اور شہید ہوں گا۔مگر خدا تعالیٰ نے بعینہ ضیاء والا معاملہ اس ملاں سے اس طرح کیا کہ اس میں بھی جب میں نے ایک خطبہ میں اعلان کیا تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا ہے کہ وہ چکی چل پڑی ہے جس نے آخر اس ضیاء کو پیس ڈالنا ہے، اگلے جمعہ سے پہلے پہلے ضیاء کا طیارہ ہوا میں پارہ پارہ ہو گیا اور اس کی خاک بکھر گئی۔جس طرح چکی پیستی ہے ایک شخص ، ایک وجود کو یا دانوں کو اس سے بھی زیادہ باریکی کے ساتھ ضیاء کے بدن کی خاک پیسی گئی اور ہوا میں بکھر گئی اور حکومت پاکستان کی تمام کوششیں اس معاملے کے حل کے متعلق بالآخر اسی سال اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اس میں ہر گز کسی بھی انسانی ہاتھ کا دخل نہیں۔یہ ہمیشہ ایک معمہ بنا رہے گا کہ کیوں وہ طیارہ پھٹا کیونکہ و Black Box جو ملا ہے اس میں اشارہ بھی کسی ایسی خرابی کا ذکر نہیں ملتا جو کسی انسان نے کسی طرح اس میں داخل کی ہو۔تو اس ملاں کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے لمبا انتظار نہیں کروایا۔پہلے جمعہ اور اس جمعہ کے درمیان وہ سب کچھ ہو چکا ہے جس نے اس ملاں کی خاک اڑادی ہے اور اسے ذلیل ورسوا کر کے رکھ دیا ہے۔اب میں اس کی کچھ تفصیل آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اگر چہ اب گیمبیا کی حکومت نے جس طرح پلٹا کھایا ہے اس کے بعد وہ چند باتیں جو میں نے کہا تھا کہ میں بیان کروں گا وہ غالباً اب مناسب نہیں۔صدر چونکہ اس ساری صورتحال کو پلٹانے کے ذمہ دار ہیں اس لئے ان کے متعلق کوئی ناواجب حرف اب کہنا جائز نہیں ، ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔مگر دو مرکزی کرداراس ڈرامے کے ہیں ایک یہ ملاں فاتح اور ایک بو جنگ جو وزیر مذہبی امور اور وزیر داخلہ ہیں ان دونوں کی بد کرداریاں ایسی ہیں کہ اس معاملے کے حل ہونے کے باوجود ان کا ذکر ضروری ہے کیونکہ دونوں مباہلے میں ایک نہ ایک رنگ میں ملوث ضرور ہیں۔بوجنگ نے مباہلے کے کاغذوں کو اٹھا کر پرے پھینک دیا تھا حقارت کے ساتھ اس لئے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اس شخص کے ساتھ اسی طرح تذلیل کا سلوک نہ کرے اور اسے بھی رڈی کاغذ کی طرح اٹھا کر باہر نہ پھینکا جائے۔اور جہاں تک اس ملاں کا تعلق ہے اس سے متعلق میں چند باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جو اس کی بیہودہ سرائی ہے اس کا جواب تو ہم نے دینا ہی ہے اور وقتا فوقتاً میں لقاء مع العرب میں بھی اور دوسرے مواقع پر بھی ان جوابات کو جو ساری جماعت جانتی ہے کیونکہ پہلے بھی اسی قسم کی بکواس پاکستان کے