خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد 16 663 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء یہاں آچکا ہے اور ہر دفعہ صدر سے ملاقات کی ہے اور اس سفیر کے اپنے متعلق ہماری رپورٹیں یہی ہیں کہ کوئی مذہبی انسان نہیں مگر حکومت کا غلام ضرور ہے اس کے متعلق ہیں یہ واقعات کیونکہ اس سے پہلے سالوں میں کبھی بھی وہ سفیر جو سینیگال میں متعین ہوا کرتا تھا ابھی بھی ہے وہ گیمبیا کا سال میں شاید ہی ایک دفعہ دورہ کرتا ہو اور وہ بھی قومی تقریب کے موقع پر اور وہ بھی ہر دفعہ نہیں۔یعنی گیمبیا کی سفیر پاکستان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی اگر چہ دونوں جگہ کا یہی سفیر تھا۔تو یہ سفیر صاحب 23 / مارچ کے اس واقعہ سے پہلے لازماً صدر سے ملے ہیں اور چار مرتبہ اس دفعہ گئے ہیں وہاں جا کر صدر سے ملتے رہے ہیں اور کچھ باتیں ہوتی رہی ہیں۔اس 23 / مارچ کے دورے میں وزیر مذہبی امور بو جنگ اور سٹیٹ ہاؤس کے امام یہ تینوں شامل تھے پہلے پاکستان گئے پھر وہاں سے کو بیت آئے اور پھر مصر۔اب یاد رکھیں کہ یہی اڈے ہیں احمدیت کی مخالفت کے جو سعودی عرب نے قائم کررکھے ہیں۔اندھوں میں کانا راجہ تو آپ نے سنا ہوگا لیکن کانوں میں اندھا راجہ شاید نہ سنا ہو۔ایک ایسا ہی کانوں کا اندھا راجہ ہے جس کو اب موقع مل گیا ہے جو اس سازش میں اپنی طرف سے دماغ کا کام کر رہا ہے یعنی بے دماغی کا حقیقت میں۔اس نے ان سب کو اپنے سفیر کے ذریعے اس بات پر اچھالا ہے اور سعودی عرب جو پہلے سے سازش کے ذریعے ان کو لا رہا تھا اس بات کا منتظر تھا کہ کسی طرح پاکستان بھی ساتھ ملوث ہو جائے تو پھر ہم مل کر یہ کاروائی کریں ان کو یہ موقع مل گیا اور یہ صاحب جو اندھے راجے کا میں نے ذکر کیا ہے یہ پہلے بھی ایک ایسی پوزیشن میں تھے جو سعودی عرب کی چھت سے لٹکے ہوئے تھے اور سعودی عرب کی نمائندگی ہی میں یہ مصر بھی پہنچے تھے اور مصر میں بعینہ یہی سازش پہلی دفعہ شروع کی اور افریقن ملکوں میں جماعت احمدیہ کے خلاف غیر مسلم ہونے کے اعلان کا پہلی بار انہوں نے وہاں کوشش کا اظہار کیا۔وہ جلسہ کلیہ نا کام رہا۔افریقن ممالک خصوصا غانا نے بڑی عقل اور غیرت کا مظاہرہ کیا انہوں نے کہا یہ تم نے کیا بکواس کی ہے اس لئے ہمیں بلایا تھا۔اس شیطانیت کو اپنے گھر میں رکھو۔افریقن ممالک اس کو قبول نہیں کریں گے چنانچہ وہ سازش ان کی کلیہ ناکام رہی۔یہ میں بہت پہلے کی بات کر رہا ہوں جب حکومت پاکستان مجبور ہوگئی تھی ان صاحب کو باہر نکالنے پر اور سعودی عرب کے بادشاہ نے ان کو رابطہ عالم اسلامی کا انچارج بنا دیا تھا اور یہ رابطے تھے یہ اڈے ہیں پاکستان اور کویت اور مصر اور سعودی عرب۔اس کو پہچان لیں آپ۔یہ اڈے ہیں جہاں