خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 662
خطبات طاہر جلد 16 662 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء گے۔اب یہ سازش کہ حکومت کے خلاف فوج میں ایک بات پنپ رہی ہے اور داؤدا جوارا صاحب کو اور ان کی حکومت کو علم نہیں اور بہت پہلے اس بات کا وہ اقرار کر لیتے ہیں کہ ہم نے کچھ کرنا ہے اس سازش کے متعلق میں نے ان کو متنبہ کیا میں نے کہا آپ اس کو معمولی بات نہ سمجھیں۔یہ آئندہ آنے والے حالات کا پیش خیمہ ہے حکومت کے خلاف سازش پک رہی ہے۔آپ کا فرض ہے کہ مزید رابطے بڑھائیں اور فوج کے اندر کون کون ملوث ہے اور کیا کچھ ہورہا ہے اس پر توجہ دیں۔مجھے افسوس ہے کہ اس طرف توجہ نہیں دی گئی حالانکہ میرے پاس خطوط موجود ہیں جس میں میں نے ان کو تاکید کی تھی کہ آپ اسے معمولی بات سمجھ رہے ہیں ایک فوجی افسر کا غصے کا اظہار، ہرگز یہ بات نہیں۔گہری سازش پنپ رہی ہے اور اس میں فوج ملوث ہونی ہے آئندہ جب ظاہر ہوگی تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ کیا ہورہا ہے لیکن بہر حال اپنی طرف سے انہوں نے نیک نیتی سے جو بھی کام کرنے تھے کئے اور بہت اچھے اچھے کام کئے مگر اس معاملے میں ایک کو تا ہی شاید وہ مقدر تھی وہ ان سے ہو گئی۔چنانچہ صدر یحیی جامع نے جواب موجودہ صدر ہیں 22 جولائی 1994ء کو سٹیٹ ہاؤس پر حملہ کیا اور یہ واقعات جو میں بیان کر رہا ہوں یہ اس سے بہت پہلے کے ہیں اور ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔پھر تمبر 1996ء میں الیکشن کروانے کے بعد صدارت کا عہدہ سنبھالا۔یہ پہلے سے سازش تھی کہ ایک فوجی حکومت ہوگی اور پھر وہ عوامی گویا عوام الناس کی نمائندہ دکھائی جائے گی چنانچہ انہوں نے صدر کا عہدہ سنبھالا۔جنوری 1997ء میں اسی سال شروع میں پارلیمانی انتخاب جیتے کیسے جیتے اس کی تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں لیکن جنوری میں انتخاب جیتتے ہی رمضان مبارک میں یہ سعودی عرب پہنچے ہیں اور عمرہ کی ادائیگی کی ہے وہاں۔اب ان سب باتوں سے اب پر دے اٹھے ہیں کہ کیا ہورہا تھا اور کب سے ہو رہا ہے۔وہی مہینہ جس میں ہمارا مباہلے کا اعلان کیا جارہا ہے اسی مہینے میں ان صاحب نے پہلی دفعہ حکومت پر قبضہ کر کے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اور ستمبر 1996ء میں الیکشن کروانے کے بعد جو اس نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا اس کا ایک نیا آغاز جنوری میں کیا گیا تھا۔یہ آغاز کیا ہے میں آپ کو سمجھاتا ہوں۔اس کے بعد سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد 23 / مارچ1997 ء کو وزیر مذہبی امور میجر بو جنگ اور سٹیٹ ہاؤس کے امام وہی فاتح امام ان سب نے پاکستان کا دورہ کیا ہے اور اس سے پہلے سینیگال کا جو پاکستانی سفیر ہے وہ یہاں پہنچا ہے اور اس سال میں اب تک چار دفعہ وہ