خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 661 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 661

خطبات طاہر جلد 16 661 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء بنایا گیا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔”جماعت احمدیہ کے کام عظیم ہیں اور کامیابیاں قابل ذکر ہیں ہم آپ کی بہتری کے خواہاں ہیں“۔وزیر تعلیم نے یہ کہا ابتداء سے ہی احمد یہ مسلم مشن نے تین بنیادی امور میں مثبت ترقی کی ہے جن میں نمبر ایک انسان کی ترقی میں تعاون نمبر دو روحانیت میں ترقی۔نمبر تین تعلیم اور صحت کے میدان میں ترقی“۔یہ وزیر تعلیم صاحب اب خدا جانے کیا کہیں گے مگر کل تک یہ کہہ رہے تھے۔ان تینوں امور میں انہوں نے قابل ستائش کام کیا ہے جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے یہ خاتون ہیں وزیر میں پوری اتھارٹی سے بتا سکتی ہوں کہ جماعت احمدیہ نے حکومت گیمبیا سے تعاون کر کے تعلیم کو دیہات میں غریب لوگوں کے گھروں تک پہنچا دیا۔یہ خدمات ہیں جن کے نتیجے میں اب جو حکومت گیمبیا نے پر پرزے کھولے ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پہلی بار 6 / جون کو امریکہ میں یہ صورت حال سامنے آئی اور تعجب ہوا کہ اچانک اس مہینے میں یہ کیوں کا رروائی شروع ہوئی۔کون سی ایسی بات تھی اس سے پہلے میرا ٹیلی ویژن پر گیمبیا کے لئے خطاب تھا ذ ہن اس کی طرف بھی جاتا تھا کہ شاید وہ ہو لیکن اس سے بھی پہلے اور کارروائیاں تھیں جو ہو چکی تھیں مجھے علم نہیں تھا اور 23 مارچ کا دن ایک خاص اہمیت رکھتا ہے لیکن اس سے پہلے جنوری میں یعنی اسی سال کی جنوری میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں میں اب ان کے چہرے سے پردہ اٹھانے لگا ہوں۔گیمبیا کے موجودہ صدر یکی جامع نے 22 جولائی 1994ء کو سٹیٹ ہاؤس پر حملہ کیا یعنی میں پہلے کی ان کی تاریخ بتا رہا ہوں یہ کون صاحب ہیں۔سٹیٹ ہاؤس پر حملہ کیا اور ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔یہ بات یاد رکھیں کہ یہ حملہ بھی ایک سازش کا نتیجہ تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سے کئی سال پہلے۔اس وقت داؤ د حنیف صاحب ملک کے امیر تھے ان کے زمانے میں ایک ایسی مجھے رپورٹ ملی جس سے مجھے شبہ پیدا ہوا کہ کچھ بہت سی گہری باتیں ہیں جو آئندہ رونما ہونے والی ہیں۔داؤ دا جوارا صاحب کی حکومت تھی ایک فوجی افسر جس کا اب ان کو نام یاد نہیں لیکن ہمارے خط میں جو لکھا تھا اس میں بھی نام نہیں لکھا گیا۔ایک فوجی افسر کو ڈاکٹر نے دوائی کے لئے Queue میں کھڑا ہونے پر مجبور کیا اور وہ اپنی بڑی شان میں تھا کوئی بعید نہیں کہ وہ یہی شخص ہو اور اتنا غصے کا اظہار اس نے کیا کھڑا تو رہا دوائی کی خاطر لیکن اس نے کہا کہ جب ہماری فوجی حکومت آئے گی تو ہم ایک ایک بات کا بدلہ لیں