خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 660

خطبات طاہر جلد 16 660 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء متاثر نہیں بلکہ وہ کھلم کھلا اپنی حکومت کے ان چہروں سے پردے اٹھا رہے ہیں جو گندے اور خبیث چہرے ہیں۔یہ خلاصہ ہے جو میں نے بیان کر دیا اس کے ثبوت ان اخبارات کے حوالوں سے بعد میں کسی وقت میں پیش کروں گا۔اب میں واپس آتا ہوں اس سازش کی نقاب کشائی کی طرف۔اس ملک کے صدر اس وقت بیٹی جامع صاحب ہیں اور صدر یحیی جامع صاحب اور وزیر تعلیم کا اپنا تاثر جو ان واقعات سے پہلے کا جماعت کے متعلق ہے وہ ایک مسلمہ تاثر جو شائع ہو چکا اخبارات، ریڈیو میں اس کا ذکر آ گیا وہ ہمارے داؤ د صاحب جو امیر تھے ان کے گیمبیا چھوڑنے کے او پران دونوں نے جو اپنے تاثرات بیان کئے وہ یہ ہیں۔صدر صاحب گیمبیا جو موجودہ صدر ہیں انہوں نے کہا ” جہاں تک اس ملک میں جماعت احمدیہ کا تعلق ہے انہوں نے بڑے عظیم کام کئے ہیں جو حکومت گیمبیا نہیں کر سکتی تھی۔یہاں حقیقت بول پڑی ہے اور ابھی اس سازش نے پر پرزے نہیں نکالے تھے تو صدر کو اور وزیر تعلیم کوحقائق کا اعتراف کرنا پڑا اور یہی حقائق کا اعتراف ہے جو ان کو اب ملزم قرار دے رہا ہے مجرم قرار دے رہا ہے ملزم تو ہیں ہی مجرم بھی قرار دے رہا ہے۔جہاں تک اس ملک میں جماعت احمدیہ کا تعلق ہے انہوں نے بڑے عظیم کام کئے ہیں جو حکومت گیمبیا نہیں کر سکتی تھی۔حکومت سکول تعمیر نہیں کر سکتی تھی یہ غربت کا عالم تھا لیکن جماعت احمدیہ نے کئے۔حکومت ہسپتال نہیں بنا سکتی تھی اور واقعہ جو ہسپتال ہم نے تعمیر کر کے دئے ہیں جس طرح لوگوں کا اس طرف رجحان ہے اس کا عشر عشیر بھی ان کے ہسپتال کام نہیں کر سکتے۔دکھا نہیں سکتے جو حکومتوں کے پیسوں سے بنائے گئے ہیں۔حکومت ہسپتال نہیں بنا سکتی تھی آپ نے بنادئیے۔آپ نے گیمبیا کے لوگوں کو مذہبی اور اخلاقی تعلیم دی۔یہ اب یادرکھیں کہ اس کے بعد کی بکواس کا رنگ کیا ہے اور اس کا کیا ہے۔اسی طرح صحت کی سہولیات بھی گیمبیا کو مہیا کیں جو حکومت گیمبیا نہیں کر سکتی تھی۔اہل گیمبیا آپ کے جانے سے غمگین ہوں گے“۔یہ بھی سچی بات ہے اہل گیمبیا بہت غمگین ہیں اور بہت غصے کا اظہار کر رہے ہیں اپنی حکومت کے خلاف اس لئے آپ لوگوں کو گیمبیا کے رہنے والے معز زلوگوں کے خلاف ایک ذرہ بھر بھی کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں ہونی چاہئے سارا گیمبیا ایک زبان ہوکر جماعت کی تائید میں اٹھ کھڑا ہوا ہے اور یہ شرارت ہے یہ بالا بالا محض پاکستان کی نقالی اور ان کی حکومت اور ان کے بعض کارندوں کی شرارت کے نتیجے میں عربوں سے پیسہ کھانے کا یعنی ذاتی پیسہ کھانے کا ایک ذریعہ