خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 640
خطبات طاہر جلد 16 640 خطبه جمعه 29 راگست 1997ء مل گئیں مگر بعض اطلاعات تاثرات کے طور پر چہروں پہ دکھائی دیتی ہیں مگر لفظوں میں نہیں ڈھالی جاسکتیں۔مگر جنہوں نے بھی اپنا تبصرہ کیا ہے وہ غیر معمولی طور پر محبت کا نتبصرہ کیا ہے یہاں تک کہ بس کے ڈرائیور صاحب جو ساتھ لے کے آئے تھے انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ کوئی ایسا گروہ دیکھا ہے جو اس طرح بس کے اندر بھی اور باہر بھی اللہ کا نام بلند کرتا رہے لا الہ کے نغمے پڑھتار ہے اور ان کی طرز عمل، ان کے اخلاق دیکھ کر بعض ہمارے سفر کرنے والوں سے انہوں نے بہت محبت سے ذکر کیا ہے کہ میں غیر معمولی طور پر متاثر ہوں۔یہ دراصل اخلاق ہی کا کھیل ہے۔ان کے اخلاق نے آپ کو متاثر کیا، آپ کے اخلاق نے ان کو متاثر کیا اور دونوں ایک دوسرے کے لئے سہارا بنتے ہیں۔خُلق ، خُلق کو ایک حوصلہ دلاتا ہے اور بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے۔چنانچہ جیسے قصاب کی چھریاں جب آپس میں چلتی ہیں تو تیز ہوتی ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ انسان کے اخلاق بھی ایک دوسرے سے مل کر کند نہیں ہوتے بلکہ تیز ہوتے ہیں اور بہت سی باتیں انسان سیکھتا ہے، بہت سی باتیں سکھاتا ہے۔اگر چه سب اردو کلاس پوری طرح یہاں نہیں آ سکی مگر جتنی بھی آئی انہوں نے ہالینڈ کی بہت سی پیاری، باقی رہنے والی یا دیں جمع کر لی ہیں اور اکثر نے یہ کہا ہے کہ ہم ساری زندگی یہ سفر نہیں بھولیں گے۔خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہاں کی وادیاں لا الہ الا اللہ سے گونجتی رہیں۔ان کے نغمات کا ہمیشہ خلاصہ یہی لا الہ الا اللہ ہی رہا اور جب بھی کوئی دوسرے نغمے بھی سناتے تو آخر اسی پر تان ٹوٹتی تھی۔مختلف زبانوں میں مختلف کے یہ مختلف انداز میں یہ سارا علاقہ لا الہ الا اللہ سے گونجتا رہا جو معنی خیز تھا محض نغمہ نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والا تو حید کا ایک اعلان تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس اعلان کو اب صرف نغمات میں نہیں بلکہ عمل کی صورت میں ڈھالنے کے لئے ہالینڈ کی جماعت پر ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ہالینڈ کی جماعت نے جو نغمے سنے ہیں ان نغموں کو ہالینڈ کے لوگوں کے خون میں رسانے بسانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی رگوں میں ، ان کی خون کی گردش میں لا الہ الا اللہ کا ورد شروع ہو جائے اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی طرف بلا نا مشکل نہیں ہے۔مختلف سوال و جواب کی مجالس میں میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی توحید کی بات کی جائے تو مشرکین بھی سر نگوں ہو جاتے ہیں۔بعض مجالس میں بڑے بڑے عیسائی پادری بھی آئے ہوئے تھے