خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 612
خطبات طاہر جلد 16 612 خطبہ جمعہ 15 راگست 1997 ء قیمت ہوگی۔جو عددی غلبہ نہیں ہوگا جو صلاحیتوں کا غلبہ ہوگا۔پس آج جب کہ ہم عددی غلبے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے آگے بڑھ رہے ہیں اس عددی غلبے کو صلاحیت کے غلبے میں بدلنے کے لئے ہمیں آج ہی جدو جہد کی ضرورت ہے ورنہ یہ عددی غلبہ ہمارے کسی کام نہیں آئے گا۔اس سلسلے میں میں نے گزشتہ چند خطبات میں اور اس سے پہلے بھی آپ کو متوجہ کیا تھا کہ ہمارے ہر مسئلے کا حل وحدانیت ہے، تو حید باری تعالیٰ ہے جس کے ذریعے ہمارے سارے مسائل حل ہوں گے۔اگر تو حید کو چھوڑیں گے تو آپ کا عددی غلہ دنیا قبول نہیں کرے گی۔ایک ہی غلبہ ہے جوصفات باری تعالیٰ کا غلبہ ہے اس غلبے میں کوئی اجنبیت نہیں۔اگر سچائی کا غلبہ ہے تو دنیا کی کون سی قوم ہے جو سچائی کو اپنے ملک پر غالب آنے سے رو کے یا نا پسند کرے یا یہ سمجھے کہ سچائی تو ایک پاکستانی کردار ہے ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔کون ہے جو نیکی یعنی عموماً بنی نوع انسان سے ہمدردی کو ایک غیر ملک کی صفت جانے۔پس صفات باری تعالیٰ کی خوبی یہ ہے یعنی اور خوبیوں کے علاوہ ایک خوبی یہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ کے پیچھے اگر آپ چلیں، انہیں اپناتے ہوئے چلیں تو دنیا کی کوئی قوم بھی آپ کے غلبے کے خلاف رد عمل نہیں دکھا سکتی کیونکہ آپ کا غلبہ تو حید باری تعالیٰ کا غلبہ ہوگا ، ان صفات کا غلبہ ہو گا جو بین الاقوامی ہیں، ان صفات کا غلبہ ہوگا جنہیں ہر قوم اپنا نا چاہتی ہے خواہ اپنا سکی ہو یا نہ اپناسکی ہو۔اس لئے یہ بہت ہی اہم باتیں ہیں جو میں آج آپ سے کر رہا ہوں۔صفات باری تعالیٰ کے غلبے کو اپنا ئیں اور جب اس غلبے کی خاطر آپ کام کریں گے تو یہ چار صفات ابھریں گی ایک نبی کی صفت، ایک صدیق کی صفت، ایک شہید کی صفت اور ایک صالح کی صفت۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے“۔یہ وہ حصہ ہے جسے جماعت احمدیہ کی اکثریت اپنا سکتی ہے۔صدیقیت کے لئے جس محنت اور خلوص اور تقویٰ کی ضرورت ہے یہ ایک سال، دو سال، تین سال کے بعد بھی ضروری نہیں کہ اکثر کو