خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 605 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 605

خطبات طاہر جلد 16 605 خطبہ جمعہ 15 راگست 1997 ء صلى الله کے دشمن نے آنحضرت یہ کی ذات پر بھی کئے ہیں۔پس یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ تمام اعتراضات جو حضرت اقدس محمد رسول الله الا الله۔کئے گئے وہ سارے اعتراض یا ان سے ملتے جلتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر بھی کئے گئے ہیں۔ایک دفعہ میں نے ان تمام اعتراضات کو اکٹھا کیا تھا۔ایک بھی اعتراض ایسا نہیں نکلا جو آنحضرت ﷺ پر دشمن نے کیا ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ان مولویوں نے اسے دہرایا نہ ہو اس لئے صرف اسی موضوع پر دو ٹوک فیصلہ ممکن ہے۔اس کے لئے آپ علماء کو چیلنج دے سکتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کریں جو اعتراض یا اس سے ملتا جلتا اعتراض مخالفین نے آنحضرت یہ پر نہ کیا ہو تو اس کو ہم زیر نظر لائیں گے۔اس کے ساتھ ہی ان پر فرض ہوگا کہ وہ اعتراض یا اس سے ملتا جلتا جو بھی اعتراض ہو اس کا وہ جواب دیں اور ہم بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر پڑنے والے اعتراض کا جواب دیں گے مگر پہلے وہ آنحضرت می ایہ کا دفاع کر کے دکھا ئیں۔ہمیں یقین ہے کہ وہ کامیاب دفاع نہیں کر سکیں گے۔کامیاب دفاع وہی ہے جو صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور جس کی جماعت احمدیہ کو تربیت دی گئی ہے۔پس ان سے کہیں گالی کا جواب ہمارے پاس گالی نہیں ہے غصے کا جواب عفو سے دیں گے نفرت کا جواب محبت سے دیں گے مگر ہمارے آقا و مولا پر جو اعتراض تم کرتے ہو پہلے اچھی طرح چھان بین کر کے یہ فیصلہ کر لو کہ کیا ان میں سے کوئی اعتراض آنحضرت ﷺ پر ہوا کہ نہیں۔اگر ہوا تھا تو مہدی کی شان اپنے آقا سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔یہ ناممکن ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو تو نئے نئے اعتراضات کا نشانہ بنایا گیا ہو اور آپ کے غلام کامل حضرت امام مہدی کو ان اعتراضات سے بچالیا گیا ہو۔پس سب سے پہلے ایسے اعتراضات کی فہرست تبلیغ کرنے والے احمدیوں کے پیش نظر رکھنی چاہئے اور نظارت اصلاح وارشاد کا کام ہے کہ اس قسم کے اعتراضات کی فہرست بنائیں جس کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اسی نوعیت کے ہونے والے اعتراضات بھی ایک کالم کی صورت میں سامنے درج ہوں تا کہ احمدی مبلغین کے لئے سہولت ہو مگر یہ ایک نازک معاملہ ہے اس کو حل کرنے کے لئے لازم ہوگا کہ اس پمفلٹ میں ساتھ ساتھ یہ سمجھایا جائے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ہونے والا یہ اعتراض لغو اور جھوٹا صلى اللهم