خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 598
خطبات طاہر جلد 16 598 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997 ء بھلائی کچھ سرضرور اٹھا رہی ہے کہیں کہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ بھلائی دبی ہوئی تھی جواب باہر نکل رہی ہے اس لئے مجھے امید ہوئی ہے کہ شاید ہماری دعاؤں سے یہ بھلائیاں ابھر کر اب سامنے آجائیں شاید ہماری دعاؤں سے یہ بھلائیاں سر نکال کر بدی پر غالب آئیں اس کا مقابلہ کریں۔یہ ضرورت ہے جواب قوم کی ضرورت ہے۔قوم کے اچھے لوگوں نے مقابلہ چھوڑ دیا تھا اچھے لوگ تھے تو سہی جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے میرے علم میں ہیں بہت سے اچھے لوگ ہیں ان کی نیکی دب گئی اور بدی ان پر غالب آگئی اور بدی کو انہوں نے غالب آنے دیا اب اس حالت کو بدلنے کے لئے قربانی دینی پڑے گی۔ایسے اچھے لوگوں کو سر اٹھا کر اوپر آنا ہوگا۔ان کو اب ایک بگل بجانا ہوگا کہ آؤ واپس اس پاکستان کی طرف جائیں جو خدا کے سب بندوں کا پاکستان ہے۔آؤ واپس اس پاکستان کی طرف لوٹیں جہاں مذہب دوسرے مذاہب کے درمیان تفریق کا موجب نہ بنے، جہاں مذہب حقیقی طور پر اپنے سے ہٹے ہوئے دوسرے مذاہب کے لئے ایک رحم کا سرچشمہ ثابت ہو، جہاں سچائی جھوٹ کی دشمن نہ ہو بلکہ جھوٹ کی حالت درست کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دے۔ان معنوں میں میں ابھی بھی امید رکھتا ہوں کہ سب کچھ ہاتھ سے نہیں گیا اور انہی معنوں میں میں آپ سے درخواست کر رہا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری کشتی میں جوکشتی نوح ہے جو سارے عالم کی کشتی ہے اس کشتی میں پاکستان کے ایسے لوگوں کو کثرت سے سوار کرنے کی توفیق عطا فرما یہاں تک کہ یہ کشتی غالب آجائے اور ڈوبنے والوں کی تعداد کم رہ جائے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین اب اس جلسے کے آخر پر جو جمعہ پڑھا جاتا ہے جب کہ لوگوں کی واپسی اور ہنگامے اختتام پذیر ہورہے ہوتے ہیں۔یہ وہ جمعہ ہے اگلا غالباً جمع کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اس لئے امام صاحب کو میں مخاطب ہوں خاص طور پر کہ دیکھ لینا کہ اگلے جمعے میں کیا حالات ہیں اگر مسافروں کی کثرت ہو جیسا کہ ابھی تک ہے اگر ہال میں بستر بچھے ہوئے ہوں جیسا کہ اب میں دیکھ کے آیا ہوں تو اس وقت تک آپ بے شک جمعہ نماز عصر کے ساتھ جمع کر لیں ورنہ پھر واپس اپنی روٹین پر آجائیں۔انشاء اللہ میں جب سفر سے واپس آؤں گا تو پھر غالبا اس وقت مختلف حالات ہوں گے۔