خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 579 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 579

خطبات طاہر جلد 16 579 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء آئندہ کے لئے فکر کرنے والے ہوں اور اگر نہیں کرتے تو پھر اس عددی برتری کو کوئی بھی حیثیت حاصل نہیں محض ایک ذلت کی دوڑ میں ہم شامل ہونے والے ہوں گے غیر بھی نعرے لگائیں گے کہ ہمارے پیچھے اتنے چلنے والے ہیں ہم بھی نعرے لگائیں گے ہمارے پیچھے اتنے چلنے والے ہیں۔ہمارا فخر تب جائز ہوگا اگر پدرم سلطان بوڈ ہی نہ ہو بلکہ اولاد میں سلطانی کی خوشبوئیں آئیں۔اولاد کی کلاہ بھی سلطانی کلاہ ہو۔تو اس پہلو سے آپ کے لئے لازم ہے کہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں یعنی روحانی نسلوں کی طرف ابھی سے متوجہ ہوں باریکی کے ساتھ ان کا خیال رکھیں۔جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے ہدایات مختلف دی جاتی ہیں اور دی جاتی رہیں گی اور ہدایات بھی انشاء اللہ آپ کو وقتا فوقتا دی جائیں گی۔میرے ذہن میں جو پروگرام ہے اس کو اکٹھا میں کھول نہیں سکتا کیونکہ زیادہ بوجھ پڑ جائے تو لوگ بھول جاتے ہیں زیادہ بوجھ نہ ڈالنے کا فلسفہ بھی ہم نے قرآن کریم سے سیکھا ہے قرآن کریم فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ: 287)۔تو آپ کے اوپر جو کاموں کے بوجھ ڈالوں گا میں اس قانون کے تابع آپ کی وسعت بھی ساتھ ساتھ بڑھاؤں گا یعنی اللہ بڑھائے گا اور میں عرض کروں گا اور کوشش یہ کروں گا کہ جتنی جتنی وسعت آپ کی بڑھتی جاتی ہے اتنا اتنا بوجھ بھی آپ کا بڑھاتا جاؤں گا۔وسعت کے بعد جو بوجھ ہے وہ بوجھ لگا نہیں کرتا یہ مزے کی بات ہے۔ایک انسان جو کمزور ہو اور چار سیر وزن بھی نہ اٹھا سکتا ہو اس پر من ڈال دیں تو وہ ٹوٹ کر گر جائے گا ہمیشہ کے لئے بیمار ہو جائے گا مگر جو من اٹھا سکتا ہو اس کے اوپر اس سے نیچے نیچے جتنے بوجھ ڈالیں وہ ہنسی خوشی کے ساتھ دوڑتا ہوا اس بوجھ کو اٹھالے گا۔بوجھ ہمیشہ اس وقت محسوس ہوتا ہے جب طاقت سے بڑھ جائے یاد رکھیں یہ قانون قدرت ہے آپ اگر دس میل آرام سے چل سکتے ہیں جب گیارھواں میل شروع کریں گے تب آپ تھکیں گے۔اگر آپ نصف میل چل سکتے ہیں نصف میل آرام سے ہلیں ، چلیں آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور روزانہ جسم میں مزید طاقت آتی چلی جائے گی بشاشت آتی چلی جائے گی جب آپ نصف کو ایک دم ایک بنانے کی کوشش کریں گے آپ مارے جائیں گے۔تو إِلَّا وُسْعَهَا میں بے شمار پیغامات ہیں ہمارے لئے۔ہم نے جو آگے دنیا کا نقشہ بنانا ہے جماعت کی تربیت کرنی ہے اس میں میں نے دیکھا ہے کہ مجھے إِلَّا وُسْعَهَا کے مضمون پر غور