خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 561
خطبات طاہر جلد 16 561 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997 ء کی جگہ لگانے پڑے ہیں یہاں تک کہ خدا کے فضل کے ساتھ اب ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اب صحیح رستے پر گامزن ہو چکے ہیں۔یہ پیج رستے پر گامزن ہونا نصرت چاہتا ہے اور جو کثرت سے اس سال خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم پر نصرت نازل ہوئی ہے اور آئندہ نازل ہوگی یہ اس بات کی یقینی شہادت ہے کہ یہ لوگ بچے ہیں۔اگر یہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں نہ کرتے تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی غیر معمولی آسمانی نصرتیں ہم پر نازل ہوتیں جن کا ذکر انشاء اللہ جلسے کی باقی تقاریر میں ہوگا۔فرماتے ہیں : ” خدا کی مدد آتی ہے۔ہم تمام دنیا کو متنبہ کریں گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب متنبہ کریں گے تو آپ کے عاجز غلام ہم سب متنبہ کریں گے۔پھر اللہ فرماتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ ہیں جو آپ اپنے رنگ میں تشریحی ترجمے کے طور پر پیش فرما رہے ہیں ”خدا کی مدد آتی ہے۔ہم تمام دنیا کو متنبہ کریں گے۔یہاں ہم سے مراد دراصل اللہ تعالیٰ ہے کہ دنیا کو انذار کے ذریعے ہلایا جائے گا۔ہم آسمان سے زمین پر اتریں گے۔یہاں لفظ ہم استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔یادرکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے متعلق لفظ ہم فرماتا ہے تو ہرگز اس میں کثرت کے معنی نہیں ہوتے۔دو معانی ہیں جو لفظ ہم میں پائے جاتے ہیں ایک وہ معنی جو بادشاہ اپنی رعایا سے کلام کرتے ہیں تو ان کی شان اور شوکت کا اظہار لفظ ہم سے ہوتا ہے۔مراد یہ ہے کہ اگر ایک مرد بادشاہ ہے اور وہ کہتا ہے ہم یہ کریں گے تو لوگوں کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ میں اکیلا مراد نہیں ہوں۔یہ ساری طاقتیں جو میرے قدموں تلے ہیں جب میں ارادہ ظاہر کروں گا تو یہ ساری طاقتیں متحرک ہو جائیں گی۔پس میری ہم کی حیثیت کے مقابل پر کسی کو سر اٹھانے کی مجال نہیں ہے کیونکہ تمام سلطنت حرکت میں آجاتی ہے جب بادشاہ کا ارادہ حرکت میں آتا ہے۔تو یہاں ہم سے مراد معبودان کی کثرت نہیں ہے۔یہاں خدا تعالیٰ کی خدائی کی کثرت مراد ہے۔ساری کائنات آسمان اور آسمان کے اندر جو طاقتیں موجود ہیں ، زمین اور زمین کے اندر جو طاقتیں موجود ہیں، جب بھی خدا تعالیٰ کا ارادہ حرکت میں آئے تو یہ ساری طاقتیں حرکت میں آجاتی ہیں۔اس پہلو سے اللہ تعالیٰ اپنے آپ کو انا کہنے لگ جاتا ہے۔ہم ہیں جو یہ فیصلہ کر چکے ہیں۔ہمارا فیصلہ ہو کر رہنے والا ہے۔کوئی دنیا کی تقدیر سے بدل نہیں سکتی۔اس کے معاً بعد فرمایا: انا الله لا اله الا انا اسی الہام کے آخر پر انا کی تشریح فرما دی جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ ہوں میں ہی ، ایک ہی ہوں۔میرے ایک کے ساتھ ہی یہ ساری کائنات کی جلوہ گری