خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 553 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 553

خطبات طاہر جلد 16 553 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997 ء جھوٹا ہوگا۔اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر میں حضرت مسیح اور حضرت مریم کے متعلق بعض سختی کے پہلو دکھائی دیں گے لیکن جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود حضرت عیسی علیہ السلام جو ایک حقیقت تھے، جو خدا کے ایک برگزیدہ رسول تھے ، جو خدا کے ایک ادنی بندہ اور ادنی بندہ ہونے پر فخر محسوس کیا کرتے تھے جن کا ذکر قرآن کریم میں محفوظ ہے اور اس مریم کا جو اس سچے بندے کی ماں تھی اس مریم کا ذکر جہاں جہاں فرمایا ہے انتہائی محبت کے ساتھ ، انتہائی انکساری کے ساتھ ، انتہائی جذبہ عشق کے ساتھ اور یہ ظاہر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ دوانسانوں میں بے مثال انسان گزرے ہیں جن کے اندر غیر معمولی صفات تھیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت عیسی علیہ السلام کو جو خدا کے موحد بندے تھے ان کا ایک ایسا مرتبہ شناخت کرتے ہیں جو اس سے پہلے حضرت مسیح کا وہ مرتبہ شناخت نہیں کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بار بار دنیا کو مطلع کرتے ہیں کہ مسیح کو جو مسیح کہا گیا اور نبی سے علاوہ نام دیا گیا اس نام میں آئندہ کے لئے بہت بڑی خوشخبریاں مضمر ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ میسحیت مسیح کی وہ شان ہے جو عبودیت کی شان ہے، معبودیت کی نہیں اور اس شان کے ساتھ مسیح کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ جب بھی خدا کی تو حید کو خطرہ ہوگا مسیح کی روح بے چین ہوگی اور گویا مسیح خود دوبارہ دنیا میں نازل ہو گا لیکن اس بے چینی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو حید کی خاطر بے چینی قرار دیتے ہیں جس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت مسیح کہیں اس وقت دنیا میں بیٹھے ہوئے واقعہ بے چین ہو کر دوبارہ اترنے کی تمنا کر رہے ہیں۔یہ ایک تشخص ہے۔مسیحیت ایک ایسا روحانی وجود ہے جو پہلی دفعہ حضرت مسیح کی ذات میں متمثل ہوا ہے اس سے پہلے کی تمام دنیا کے انبیاء مسیحیت کے نام سے ناواقف تھے اور مسیحیت نے ان کے وجود میں تشخص اختیار نہیں کیا تھا۔یہ وہ مسئلہ ہے جسے آپ کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ جہاں اس کے ساتھ آپ میں ایک طاقت پیدا ہوگی کہ جھوٹے حملوں کا دفاع کر سکیں وہاں اس کی روح سمجھتے ہوئے اس سے استفادہ کرنے کی آپ کو تو فیق عطا ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک مسیحیت جو کچی مسیحیت ہے اس میں اور مسیحی دنیا میں ایک بڑا اور نمایاں فرق ہے۔سچی مسیحیت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ فرماتے ہیں کہ صرف اپنے وقت کے لئے نہیں بلکہ یہ ایک ایسی روح ہے جس کا توحید کے ساتھ گہرا تعلق ہے