خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد 16 537 خطبہ جمعہ 18 جولائی 1997 ء کہ میں بہرا ہوں لیکن اے بولنے والے دو دفعہ کہ دیا کر اونچی بولا کرو۔سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر۔میں دوبارہ بات کہے بغیر سن نہیں سکتا۔تو قاعدہ سے ہٹی ہوئی بات ہے کہ ایک عام انسان ایک عام آواز میں کسی سے مخاطب ہو اور وہ نہ سنے لیکن اس کا دوبارہ کہنا اور زور سے کہنا یہ قاعدہ سے ہٹی ہوئی بات نہیں۔یہ دستور کے مطابق بات ہے۔پس اگر کسی موقع پر کسی دوسری طرف سے بدانتظامی ہو تو اعلیٰ اخلاق سے آپ اس بدانتظامی کا قلع قمع کر سکتے ہیں یا اس کو زائل کر کے ایک نظام جماعت کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔پس یہ یا درکھیں کہ آنے والوں میں سے کئی قسم کی غلطیاں کرنے والے ہوں گے۔کوئی کسی اور نظام میں چلا جائے گا، کوئی اور نظام میں چلا جائے گا۔مگر آپ کا فرض ہے کہ اخلاق سے اسے سمجھائیں اور اس کی ضرورت پوری کریں بلکہ پہلے سے زیادہ احسان کا سلوک کریں۔ہمارے پرانے انتظامات میں جلسہ سالانہ پر کئی ایسے دوست تھے جو کسی لنگر خانے کے ناظم ہوا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ساری رات ان کے ہاں لوگ جاتے تھے۔وہ خود کھڑے ہو کر ان کو الگ بٹھاتے حالانکہ لنگر خانے میں کھانا کھلانا دستور کے خلاف تھا۔دستور یہ کہتا تھا کہ لنگر خانے میں صرف روٹی کی تیاری کا کام ہے ، سالن کی تیاری کا کام ہے، کھڑکیوں سے سالن تقسیم ہوگا ان کے لئے جو باہر مہمان نوازی کے انتظامات میں کام کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ اللہ کے مہمان ہیں اس وقت وہ انتظامات بند ہو چکے ہیں اور میں ان کو خاص انتظام کی طرف نہیں بھجوا سکتا جو ختم ہو چکا ہے۔پس ساری رات ان کے ہاں یہ دستور چلتا تھا کہ آنے والا پوچھتا تھا کہ کہاں جائیں تو کہتے تھے کہ بیٹھو پہلے کھانا کھاؤ پھر بعد میں جانا اور کبھی بھی ان کے خلاف افسر جلسہ نے کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ معروف تھا اور سب خوش ہوتے تھے۔تو انتظام کو کہاں برقرار رکھنا ہے، کہاں اعلیٰ انتظام کی خاطر جو اخلاقی نظام ہے، جو جماعت کی اولین ذمہ داری ہے وہاں نظام کی چھوٹی چیزوں کو قربان کرنا ہے یہ حکمت کا بھی معاملہ ہے اور اخلاق فاضلہ کا بھی ہے۔تو اس پہلو سے آپ خیال کریں مختلف لوگ آئیں گے، مختلف جذبات لے کر آئیں گے مگر اس صورت میں جہاں تک آپ ان کا خیال رکھیں گے وہاں یہ یا درکھیں کہ جو حفاظت کی ذمہ داری ہے اس کو قربان نہیں کرنا۔بعض دفعہ انسان اخلاق کی تفسیر نہیں سمجھ سکتا اور سمجھتا ہے کہ اخلاق کا تقاضا ہے کہ ایک آدمی