خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 525
خطبات طاہر جلد 16 525 خطبہ جمعہ 11 جولائی 1997ء اور وہ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ ہم ان کو کس طرح اصلاح پذیر کریں گے سوال اس لئے اٹھتا ہے کہ بے صبری ہے طبیعت میں سوال اس لئے اٹھتا ہے کہ وہ چاہتے ہیں جلدی ہو جائے اور ہم کر نہیں سکتے وہ سمجھتے ہیں میرے مطالبے یہ ہیں کہ تم تین لاکھ سے چھلا کھ ہو جاؤ ، چھ لاکھ سے بارہ لاکھ ہو جاؤ تو اس کی وجہ سے گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ میں وہ طریقے بھی تو بتا تا ہوں جن کے ذریعے سے چھ بارہ ہو سکتے ہیں لیکن یہ صبر کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ایسے لائحہ عمل اختیار کئے جائیں جن میں صبر کے ساتھ لازما آپ نے آگے بڑھنا ہے۔پس اس پہلو سے آپ یا درکھیں کہ تھوڑے تھوڑے علاقے اپنے گردو پیش میں ایسے دیکھیں جن پر آپ قابض ہو سکتے ہیں اور دور دور کے علاقوں میں پیغام رسانی کریں یہ دونوں کام بیک وقت ضروری ہوا کرتے ہیں کیونکہ مختلف جگہ Oasis بنائے جاتے ہیں یعنی نخلستان اور وہ نخلستان پھر خدا کے فضل سے پھیلنے لگتے ہیں۔تو دو طریق سے کام کریں جماعتیں اپنے گردو پیش دیکھ کے خالی زمینوں پر محنت شروع کر دیں اور ان کی اصلاح شروع کریں اور جو علاقے بالکل خالی پڑے ہیں ان میں کہیں نہ کہیں پیر لگانے شروع کر دیں تا کہ ہر یا ول جگہ جگہ دکھائی دینے لگے اس طریق پر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بے صبری کے بغیر انسان آگے بڑھتا ہے اور جگہ جگہ چونکہ کچھ درخت دکھائی دیتے ہیں اس لئے زمیندار کی نظر خوش ہوتی ہے دیکھ کر اور رفتہ رفتہ اس کی زمین بڑھتے بڑھتے سارے ملک پر پھیل جاتی ہے۔ابھی ہمارا کام بہت زیادہ ہے اس سال اگر ہم اپنے مقصد کو حاصل کر لیں جو ہم نے ٹارگٹ بنایا تھا اس کو پالیں تو اگلے سال یہ تکنا ہوگا جو بہت ہی زیادہ مشکل ہو چکا ہو گا۔مگر جو قرآن کریم نے نصیحتیں فرمائی ہیں جن پر آنحضرت ﷺ نے عمل کر کے دکھایا ہے اگر ان باتوں کو چمٹے رہیں تو آپ دیکھیں گے کہ ناممکن چیز ممکن ہوتی چلی جارہی ہے اور ضرور ہوگی یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔جن جماعتوں کو خدا تعالیٰ نے غیر معمولی توفیق بخشی تھی گزشتہ سال تین لاکھ مثلاً بنائے وہ چھ لاکھ پر بہت گھبرا رہے تھے ان سے میں نے کہا کہ تم نے کون سے بنانے ہیں ، اللہ نے بنانے ہیں تم اللہ کے بتائے ہوئے کاموں پر اس کی ترکیبوں پر عمل کرنا شروع کر دو پھر تو کل کرو کام کے بغیر تو کل نہیں ہوگا۔اونٹ کا گھٹا باندھا جائے پھر تو کل شروع ہوتا ہے اونٹ کا گھٹنانہ باندھا جائے اس کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو یہ