خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 523 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 523

خطبات طاہر جلد 16 523 خطبہ جمعہ 11 جولائی 1997 ء بہت زیادہ ہوں گی اور یہ بھی مضمون ہے اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةٌ کا تم دیکھو تو سہی کہ خدا کی زمین کتنی وسیع پڑی ہوئی ہے وہیں وہیں بار بار پہنچیں جہاں پہلے بھی پہنچ چکے ہیں اور ان سارے بار علاقوں کو شمار کریں جو کہ ہیں ہی نہیں یہ بہت بڑی بے وقوفی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں اب سیالکوٹ کی مثال سامنے ہے بڑی دیر تک وہ اپنے عددی غلبے کو جو ایک چھوٹے سے حلقے میں تھا سارے ضلع پر غلبہ شمار کرنے لگے اور یہ حد سے زیادہ بے وقوفی تھی کہ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَة کے مضمون پر غور نہیں کیا انہوں نے ۔ اگر وہ دیکھتے تو پتا چلتا کہ وہ تو کچھ بھی نہیں، ارد گرد جو خالی جگہیں پڑی ہوئی ہیں وہ بہت زیادہ ہیں ۔ وہ انہوں نے مولویوں کے لئے چھوڑ دیں وہاں وہ خبیث پودا لگا نا شروع کر دیا انہوں نے تو یہ عجیب حالت ہے کہ جماعت کے ارد گرد جو خالی جگہیں تھیں اس پر خود مولوی کو قبضہ دے دیا اور جو پودے ہیں یہ بعض دفعہ اتنی تیزی سے نشو ونما پاتے ہیں اس لئے سیالکوٹ میں ہمارے لئے ایک بڑی مصیبت یہ بن گئی کہ مخالفانہ پروپیگنڈا اتنا زیادہ کیا گیا کہ وہ جو احمدی بستیاں تھیں وہ چھوٹے چھوٹے جزیرے دکھائی دینے لگے بلکہ ان سے بھی کم ۔ اب اردگردان کے لئے تبلیغ مشکل بنادی گئی۔ اتنی دیر خاموشی سے اس کو دیکھنا یہ نفسی تکبر کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے انسان سمجھے کہ مجھے غلبے کی ضرورت تھی وہ مل گیا اور جو میں نے پہلے مضمون بیان کیا تھا اصل میں اس کی وجہ سے ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں عددی غلبہ پیدا کر نا دین کا مقصد ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ مظلومیت کو بڑھا اور صبر کو وسعت دینا یہ دین کا مقصد ہوا کرتا ہے۔ دنیا میں جتنی خرابیاں ہیں یہ قوموں کے عددی غلبے کی وجہ سے ہیں۔ جب قوموں کو عددی طور پر ایک وسعت اور طاقت نصیب ہوتی ہے تو پھر وہ متکبر ہو جاتی ہیں، پھر وہ ظلم کیا کرتی ہیں۔ مظلومیت کو اس طرح پھیلانا اور صبر کو اس طرح وسعت دینا دینا کہ آپ غالب آجائیں تو صبر غالب آئے ، غالب آتے ہوئے صبر کرنا سیکھیں اور صبر کرنا سکھائیں۔ مظلومیت اختیار کئے رہیں ، اس کو چمٹے رہیں اور مظلومیت کے ذریعے ظالم کو جواب دیں یہاں تک کہ آپ اس طاقت میں آجائیں کہ ظالم بننا چاہیں تو بن سکیں لیکن ظلم کا پھل تو آپ دیکھ چکے ہیں اور چکھ چکے ہیں۔ اکثر ظلم کا نشانہ جماعت احمد یہ ہی بنائی گئی ہے لیکن مظلومیت کا پھل بھی آپ چکھ رہے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ یہ بہتر ہے، یہ خوبصورت پھل ہے، یہ طیبہ رزق ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے