خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 509

خطبات طاہر جلد 16 509 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء اظہار کر رہے ہیں تو آخری دنوں میں طوبیٰ سے بھی اور طوبی کے میاں بشیر سے جو ان کا پہلے بھی خاص عزیز تھا ان سے رات کو مجلسیں لگایا کرتے تھے اور کافی قریب تھے۔بہر حال بہت سی باتیں ہیں جو کی جاسکتی ہیں لیکن میرا دل اس وقت ان باتوں کے ذکر کی طاقت نہیں رکھتا۔اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے ایک مصرعدان پر صادق آتا ہے کہ: حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا“ ان جیسا میں نے اور کوئی انسان نہیں دیکھا۔اپنی کمزوریوں میں بھی منفرد، اپنی طاقتوں میں بھی منفرد اور سارے دوست اب وہاں پہنچ کے یہ کہہ رہے ہیں کہ اب ہمیں اور نسیم کبھی نہیں ملے گا اور اس میں مبالغہ نہیں ہے۔جو ان کو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایسا آدمی دنیا میں شاذ کے طور پر ہوسکتا ہے جس طرح کہ ان کے اندر خوبیوں کا اجتماع تھا۔کم گو، پاک دل کبھی کسی کی برائی نہیں کی کبھی غصے سے کسی کا جواب نہیں دیا۔خاموشی سے دل پر بوجھ لینے والے اور بنی نوع انسان سے خصوصاً غرباء سے بہت محبت کرنے والے اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت فرمائے۔ان کی ساری اولا دکو اللہ تعالیٰ صبر اور ہمت عطا فرمائے اور ان کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ ہم سب نے وہیں جانا ہے جہاں نیم گئے ہیں۔آج نہیں تو کل جائیں گے موت کو نہیں بھلانا چاہئے اور موت کے سفر سے پہلے وہ زادراہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے وہ سنبھالنے کی کوشش کریں تا کہ جب بھی بلاوا آئے خدا کے حضور اس کے پیار کی نظریں حاصل کرتے ہوئے حاضر ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین