خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 508 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 508

خطبات طاہر جلد 16 508 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997ء جاتی تھیں جس کے نتیجے میں ان کو دکھ تو لازما پہنچتا ہوگا لکن جواباً کبھی ایک حرف نہیں کہا اور جب بھی بات کی شگفتہ کی اور اس پہلو سے بھی ان کی انفرادیت ہے جس میں میں نے ان کا کوئی شریک کبھی نہیں دیکھا۔مزاح کی عادت تھی مگر ایسا لطیف مزاح اور ان کا انداز ایسا کہ کبھی جس نے ان کے پاس بیٹھ کر ان کے مزاح کے نمونے دیکھے ہوں وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ کبھی کسی اور انسان میں وہ انداز نہیں ہے جو ان میں تھا اور اچانک مجلس کھلکھلا اٹھتی تھی اور کوئی ان کی نقل اتار نہیں سکتا تھا۔میری بیوی آصفہ میں کچھ اپنے بھائی والی بات تھی کہ ان کا مزاح کچھ مرزا نسیم احمد کے مزاح کا رنگ رکھتا تھا لیکن ان کی جو خصوصیت تھی وہ بہر حال خدا تعالیٰ کی طرف سے خاص تھی۔غریبوں کے ہمدرد، دل کے بہت نرم لیکن خفیہ ہاتھ سے خدمت کرنے والے۔چندوں میں خدا کے فضل سے با قاعدہ۔اپنی ساری اولا د کو خاص طور پر بیوی شاہدہ کی مدد کے ساتھ انہوں نے دین پر قائم کیا ہے۔کچھ کمزوریاں تھیں جن کے پیش نظر وصیت نہیں کر رہے تھے کہتے تھے میں نے کرنی ہے اور پورا زور لگارہے تھے کہ میں اپنی نظر میں ایسا ہو جاؤں کہ میں وصیت کے قابل شمار کیا جاؤں۔نمازوں میں باقاعدہ ہو گئے اور بہت سی چیزوں میں ترقی کرنی شروع کی لیکن عمر نے اس طرح ساتھ نہیں دیا۔چنانچہ خواہش کے باوجود وصیت نہیں کر سکے لیکن حائل صرف خود تھے۔مالی لحاظ سے بالکل کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن یہ تھا کہ میں اپنی دینی حالت اور اخلاقی حالت کو خدا کی نظر میں ایسا بنا دوں کہ میں کہہ سکوں کہ ہاں میں موصی ہوں اور اسی انتظار میں دیر کر رہے تھے حالانکہ جو دیکھنے والا انسان ہے وہ ان کو دیکھا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ ان کی وصیت قبول نہ کی جاتی۔چنانچہ میں نے ایک دو دفعہ کہلا کے بھی بھجوایا کہ آپ وصیت کریں مگر اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہے وہ بخشش میں وصیت کا محتاج نہیں ہے۔ان کے ایک بیٹے عزیزم بشیر احمد سے میری بیٹی طوبی کی بھی شادی ہوئی تھی اور پچھلے کچھ عرصہ سے طوبیٰ سے بہت پیار کرنے لگے تھے۔عام طور پر یہ اپنے چھوٹے عزیزوں سے بے تکلف نہیں ہوا کرتے تھے۔مجلسیں بیرونی تھی اور باہر کے دوست ان پر عاشق تھے۔اس پہلو سے کہ علم کے لحاظ سے بھی وسیع العلم، سیاست کا وسیع علم اور مجالس کو ہمیشہ اپنے لطیفوں سے مہکائے رکھتے تھے۔بہت بڑے بڑے دنیا کے انسان ان کے انتظار میں رہتے تھے کہ کبھی میاں نسیم آئیں تو ہم ان کے ساتھ مجلس لگائیں اور مجھے پتا چلا ہے کہ کثرت سے ایسے لوگ آ رہے ہیں اور بہت غیر معمولی دکھ کا