خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 507
خطبات طاہر جلد 16 507 خطبہ جمعہ 4 جولائی 1997 ء جائے گا۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ تقویٰ کے ساتھ اس قدم کو آگے بڑھائیں گے۔اور اب آخر پر ایک نماز جنازہ کے متعلق اعلان کرنا ہے میرے عزیز جو میری بیگم آصفہ کے بڑے بھائی تھے مرزا نسیم احمد صاحب ان کی وفات کی پرسوں اطلاع ملی ہے۔وہ ہمارے بچپن کے کھیلے ہوئے تھے 4 اگست 1926ء کو پیدا ہوئے گویا مجھ سے تقریباً دو سال بڑے تھے لیکن کبھی ہمیں اپنی عمر کا تفاوت معلوم نہیں ہوا اور ہمیشہ ایک ہم عمر کی طرح بچپن میں بے تکلف دوست کے طور پر بڑھے۔ان کے متعلق میں پہلے تو یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بیٹے حضرت مرز اسلطان احمد صاحب جن کو الہام کے مطابق حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق ملی اور اس لحاظ سے حضرت مصلح موعود تین کو چار کرنے والے بنے یعنی تین بیٹے روحانی طور پر تھے اور چوتھا اس میں داخل ہونا تھا۔پس حضرت مرز اسلطان احمد صاحب کو اس الہام کو پورا کرنے کی توفیق ملی اور آپ کے بیٹے مرزا رشید احمد صاحب کی شادی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی عزیزہ امتہ السلام سے ہوئی تھی۔ان کے بچوں میں بڑی قدسیہ بیگم تھیں جو ایک حادثے میں فوت ہو چکی ہیں، بہت پہلے فوت ہوگئی تھیں اور اب سب بچوں میں مرزا نسیم احمد صاحب سب سے بڑے تھے۔ان کی شادی حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی بیٹی شاہدہ بیگم سے ہوئی۔اس طرح ہمارے خاندان میں رشتے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جو نہ جانے والوں کے لئے الجھن کا موجب بن جاتے ہیں ، ہمارے لئے جو جانتے ہیں محبتیں بڑھانے کا موجب بن جاتے ہیں۔ایک دوسرے کے اور زیادہ قریب آجاتے ہیں۔ذکر خیر میں کچھ نہ کچھ ایسا ذ کر چاہئے جس میں نماز جنازہ کے وقت توجہ ہو اور انسان دل ڈال کر دعا کر سکے۔مرزانیم احمد صاحب میں بعض خوبیاں تھیں جو ان کو منفرد کرتی تھیں اور میں پوری سمجھ کے ساتھ ، غور کے بعد یہ میں لفظ کہہ رہا ہوں کہ آپ ایک منفرد انسان تھے۔آپ کی ساری عادتوں میں انفرادیت پائی جاتی تھی۔سب سے اہم بات یہ تھی کہ کبھی کسی کی برائی نہیں کی۔ساری عمر میں نے غور کر کے دیکھا ہے کسی نے دکھ بھی دیا ہے تو برداشت کیا ہے۔کبھی بھی دل نہیں دکھا یا کسی کا اور ایسے انسان یقینا اللہ کو پیارے ہوا کرتے ہیں۔بہت مواقع پر میں نے بڑے غور سے دیکھا کبھی بہنوں کی طرف سے، کبھی دوسروں کی طرف سے، بھائیوں کی طرف سے عزیزوں کی طرف سے ایسی باتیں ہو