خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 499
خطبات طاہر جلد 16 499 خطبہ جمعہ 4 / جولائی 1997 ء اس طرح پڑھتے ہیں کہ نماز سے جتنی جلدی ممکن ہو پیچھا چھڑالیا جائے اور فرض پورا کر لیا جائے اور توجہ دوسری طرف ہوتی ہے۔یہ وہ مصلین ہیں هُم عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ جن کے متعلق فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کہ وہ نماز سے غافل ہیں۔بسا اوقات ساری نماز گزر جائے گی اور حاصل کچھ بھی نہیں ہوگا۔یہ وہ نمازی ہیں جو مسجدوں میں جاتے ہیں تو رسول اللہ علیہ فرماتے ہیں مسجد میں ویران رہتی ہیں ان مسجدوں میں کوئی بھی برکت نہیں پڑتی۔یہ وہ بنیادی کام ہیں جن کے بغیر ہم دنیا میں کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتے۔تبلیغ کا جو جوش ہے ، مالی قربانی جس کا بعد میں ذکر آیا اس میں بھی جوش ہے۔چنانچہ فرمایا وَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ جو کچھ ہم ان کو دیتے ہیں اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے خرچ کر دیا یہ بہت کافی ہو گیا اور کئی ایسے احمدیوں کی مثالیں مجھے دی گئی ہیں جو چندے ادا کر دیتے ہیں مگر نمازوں سے غافل ہیں۔چندے ادا کر دیتے ہیں مگر دینی امور میں دلچسپی نہیں ہے مگر قرآن کریم نے یہاں مال کا ذکر نہیں فرمایا اور اکثر لوگ یہ بھول جاتے ہیں مال کی شرط کو نماز کے بعد رکھا ہے مگر مال کے طور پر نہیں۔فرمایا وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ہم نے ان کو جو کچھ عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔پس یہ خیال اگر کسی کے دل میں ہو کہ چندے دے دیئے ہیں جو ظاہری مال ہے اور خدا ہی عطا فرماتا ہے اس میں سے کچھ دے دیا تو اس آیت کا حق ادا کر دیا۔اس آیت کا حق تب ادا ہوگا کہ غیب پر حقیقی ایمان ہو۔پس نماز پر پوری طرح قائم ہوں اور پھر جو کچھ خدا آپ کو دیتا ہے اس میں آپ کی عقل ہے، آپ کی مہارت ہے، آپ کی اولاد ہے، آپ کے اثاثے ہیں، آپ کی دیگر ذہنی اور قلبی صلاحیتیں ہیں یہ تمام تر خرچ کرتے ہیں اور یہ نہیں فرمایا کہ کس پر خرچ کرتے ہیں یعنی ایسے خدا کے مومن بندے جن کی شرائط یہ ہیں کہ قرآن کریم کو تقویٰ کے ساتھ پڑھتے ہیں یہاں تک کہ قرآن کریم ان کو ہدایت دینے لگتا ہے تو قرآن ان کی ہدایت کا موجب بنتا ہے۔تو پھر ان کو غیب پر سچا ایمان آتا ہے یعنی اللہ پر جو دکھائی نہیں دیتا اور خدا سے تعلق رکھنے والے جتنے غیب ہیں وہ سارے اسی ایک لفظ غیب میں شامل ہیں، حقیقی ایمان لے آتے ہیں۔جب غیب پر حقیقی ایمان لے آتے ہیں تو پھر ان کی نمازیں قائم ہوتی ہیں اس کے بغیر ان کی نمازیں قائم نہیں ہو سکتیں اور جب نمازیں قائم کرتے ہیں تو آخری بات یہ بیان فرمائی وَمِمَّا