خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 486 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 486

خطبات طاہر جلد 16 486 خطبہ جمعہ 27 / جون 1997 ء الله پس جماعت احمدیہ کینیڈا کو میں خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں کہ آپ تبلیغ کے کاموں میں بہت پیچھے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو یہاں تبلیغ کر بھی رہے ہیں تو فرضی باتیں کر رہے ہیں نہ خدا کو فرضی باتوں کی ضرورت ہے نہ جماعت کو فرضی باتوں کی ضرورت ہے۔ہرگھر میں مبلغ پیدا ہونے چاہئیں۔ہر مرد، ہر عورت، ہر بڑے، ہر چھوٹے ، ہر بچے، ہر بچی کو یہ فکر کرنی چاہئے کہ اس نے کسی کو خدا کی طرف بلا کر یہ سعادت حاصل کرلی ہے کہ وہ خدا کا ہو گیا۔یہ ایک ایسا چسکا ہے کہ اگر آپ کو اسی وقت پڑ جائے تو یہ چسکا ایسا ہے جو پھر آپ کو چھوڑے گا نہیں۔کوئی نشہ تبلیغ جیسا نشہ نہیں ہے۔کوئی عادت تبلیغ جیسی عادت نہیں ہے۔یہ اپنی ذات میں آپ کے دلوں کو پکڑ لیتا ہے جو مزہ آپ کو خدا کی خاطر خدا کے بندوں کو واپس لانے میں ملتا ہے وہ ایک عجیب مزہ ہے اور آنحضرت ﷺ نے خدا کے حوالے سے بیان فرمایا لیکن یہ بندے نہیں سمجھتے کہ آنحضرت ﷺ کا پیغام کیا ہے۔وہ پیغام اللہ کے حوالے سے مومنوں کو ہے اگر خدا جو دنیا کی لذتیں محسوس نہیں کرتا اپنے متعلق فرماتا ہے کہ مجھے لذت الله آئی تو تم جن کی خاطر خدا کو لذت آئی تم کیوں وہ لذتیں محسوس نہیں کرتے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ ایسا بندہ خدا کا جو گنہگار ہو، خدا سے دور جا چکا ہو وہ توبہ کرلے اور واپس آجائے اور دعوت الی اللہ اسی کا نام ہے کہ آپ ایسے لوگوں کی تو بہ میں مددگار بنتے ہیں، انہیں واپس لانے کے لئے آوازیں دیتے ہیں اور پھر جب وہ واپس آتے ہیں تو خدا کے قدموں میں ان کو پیش کر دیتے ہیں۔یہ جو مضمون ہے اسی کے اوپر روشنی ڈالتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بعض ایسے بندے ہیں جو گناہوں میں زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں اگر وہ واپس آجائیں واقعہ خدا کے حضور آ جائیں تو اللہ تعالیٰ کو اتنی خوشی ہوتی ہے، اتنی خوشی ہوتی ہے کہ وہ شخص جو پیتے ہوئے صحرا میں ایک درخت کے نیچے لیٹا ہو اور اس کا سب کچھ پانی، کھانا، ہر چیز اونٹنی پر لدا ہواوہ آنکھ کھولے تو اونٹنی غائب ہو چکی ہو اور اس کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا، اس کے بغیر وہ چند دن زندہ نہیں رہ سکتا وہ انتظار میں ہو یہاں تک کہ سورج ڈھلنے سے پہلے وہ اس اونٹنی کو واپس اپنی طرف آتا دیکھے فرمایا جتنی اس شخص کو خوشی ہوتی ہے اس سے زیادہ خدا کو خوشی ہوتی ہے لیکن امر واقعہ یہ خوشی ایسی ہے جو ہمیں حاصل کرنی ہے کیونکہ ہم محتاج ہیں اور ہم بندے ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں پر نظر رکھ کر خوشی محسوس فرماتا ہے یعنی خوشی کے معنی اور ہیں جو خدا کے حوالے سے ہوں جو رسول اللہ ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ اسے کھوئے ہوئے بندو! تم صلى الله