خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 485
خطبات طاہر جلد 16 485 خطبہ جمعہ 27 جون 1997ء وہ اللہ کو دھوکہ دے سکتے ہیں وہ دھوکہ دے رہے ہیں اور مومنوں کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ خدا ان کو دھوکہ دیتا ہے یعنی خدا کا دھو کہ یہ ہے کہ ان کا دھو کہ محض فرضی ہے وہ اللہ کو دھوکہ دینے میں کامیاب نہیں ہو سکتے وہ ان کو الٹ پڑتا ہے کیونکہ دنیا واقعی ہی بجھتی ہے اور بجھتی ہے کہ ہم خدا کے نظام کو کلیۂ نظر انداز کر کے وہ حاصل کر سکتے ہیں جو خدا کی تعلیم بتاتی ہے کہ نہیں کرنا اور یہ خدا کو دھوکہ دینا ہے۔ خدا کا ایک رزق کا نظام ہے۔ وہ کہتے ہیں دیکھو ہم نے نہیں مانا اور ہم دوسرے رستے سے وہ حاصل کر چکے ہیں جو تو ہمیں منع کرتا ہے کہ حاصل نہیں کرنا اور نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کی زندگی اگر اس دنیا میں برباد نہیں کرتا تو آخرت میں وہ اس سے بہت بڑی سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں اور یہ بھی ایک دھوکہ ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ دیکھو مجھے کچھ بھی نہیں ہوا، کچھ بھی نہیں ہوا، ہو سکتا ہے یعنی اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک انسان شیطان سے مانگے اس کے دیئے پر پلے اور اپنی دنیا بنالے اور پھر ہنس ہنس کے مومنوں کو دیکھے میں تو کامیاب ہوں، مجھے تو کچھ بھی فرق نہیں ہوا۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ جن کو دنیا میں خدا دے دیتا ہے وہ یا د رکھو کہ آخرت میں اسے کچھ بھی نہیں ملے گا اور ان کی سزا آخرت کے لئے مقرر ہوتی ہے اور یہ بات قرآن کریم نے کھول دی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب کسی ایسے شخص کو یعنی جس کو میں جانتا ہوں دنیا میں سزا ملتی ہے تو مجھے تکلیف تو ہوتی ہے مگر ایک خوشی بھی ہو رہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنا غیر نہیں سمجھا کہ دنیا میں کھلا چھوڑ دے۔ مرنے سے پہلے پہلے اس کو کچھ سزا دے دیتا ہے جس سے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھتا ہوں کہ اس نے آخرت میں اس سے مغفرت کا سلوک فرمانے کا فیصلہ فرمالیا ہے اور وہ لوگ جن کو کوئی سزا نہیں ملتی ان کے متعلق میں ڈرتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ بدکتے بدکتے بہت دور چلے جائیں گے اور بعید نہیں کہ پھر آخرت میں وہ نا مقبول ٹھہریں۔ پس اپنے اندر سچائی کی باریک راہیں تلاش کریں اور یہ سچائی کی باریک راہیں آپ کے اندر موجود ہیں آپ کی نیتوں نے ان راہوں کو تراشنا ہے۔ جتنے باریک نظر سے آپ نفس پر غور کریں گے آپ کو سچائی کی باریک راہیں نظر آئیں گی مگر دونوں طرف جھوٹ سے بچ کر چلنے والی ہوں گی اور اگر آپ ان باریک راہوں کی تلاش نہیں کریں گے تو ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ آپ نے لازماً جھوٹ میں ٹھو کر کھانی ہے۔