خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 43

خطبات طاہر جلد 16 43 خطبہ جمعہ 17 / جنوری 1997ء روزے رکھنے سے پیدا نہیں ہوتا۔جو برکتیں سب کی مل کر اکٹھا روزہ رکھنے میں ہیں وہ برکتیں الگ الگ روزوں میں نہیں ہیں۔تو فرمایا اصل تو یہی ہے کہ اس مہینے کو جب پاؤ، جب اس کو دیکھو، جب تمہیں نصیب ہو جائے تو اسی مہینے میں روزے رکھو لیکن اگر مریض ہو، بیمار ہو تو پھر بعد کے ایام کو بھی روزے پورے کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہو اور جب بھی توفیق ملے روزے رکھو مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ یعنی رمضان کے علاوہ بعد کے ایام میں۔وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ اس میں يُطِيقُونَ کے متعلق میں تفصیلی بات پچھلے رمضان ، اس سے پہلے بھی کر چکا ہوں اس وقت میرے پیش نظریہ لفظ يُطيقون، کا استعمال نہیں ہے۔سادہ ترجمہ اس کا یہ سمجھیں کہ جن لوگوں کو یہ توفیق ہو کہ وہ روزہ نہ رکھیں مگر روزے کا فدیہ دے سکیں وہ فدیہ دے دیں یا وہ لوگ جو یہ طاقت ہی نہیں رکھتے کہ روزہ رکھ سکیں وہ بعد میں روزہ چونکہ نہیں رکھیں گے اس لئے اس کے بدلے میں فدیہ دے دیں تو یہ دونوں معانی اور اس کے علاوہ بھی بعض معانی اس مضمون میں داخل ہیں۔یہاں فدیہ کی بات میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ فدیہ کیا ہے؟ فرمایا فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكَيْنِ ایک مسکین کا کھانا ہے فدیہ۔یعنی جو تم میں سے غرباء ہیں، نسبتا مالی لحاظ سے کم تو فیق رکھنے والے ہیں اور ان کے اندر مانگنے کی عادت نہیں خصوصیت سے وہ لوگ مساکین کہلاتے ہیں۔مانگنے والے بھی اس حکم سے باہر نہیں جائیں گے مگر خاص طور پر نظر رکھنے کا حکم ہے فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكَيْنِ کا مطلب ہے تم نگاہ رکھو کہ ایسے مساکین جو تمہارے ارد گرد رہتے ہیں، جن کو مانگنے کی عادت نہیں مگر تمہارا فرض ہے کہ ان تک پہنچو، ان کی تلاش کرو، ان کو یہ کھانا پہنچاؤ، یہ تمہارا فدیہ ہو جائے گا۔فدیہ دراصل ایک چیز کو کسی مصیبت سے چھڑانے کے لئے دیا جاتا ہے۔جب ان کے دشمنوں کے قیدی جب ان پر فتح پاتے ہیں ان کے ہاتھ آجاتے ہیں تو ان کے پچھلے عزیز ، رشتے دار وغیرہ کچھ رقم دے کر ان کو چھڑاتے ہیں تو جان چھڑانے کے لئے کسی مصیبت سے جو کچھ دیا جائے اسے فدیہ کہتے ہیں اور جو چیز ضائع ہو جائے اور انسان کسی وجہ سے کسی نیکی سے محروم رہ جائے تو اس کی جو بلاء پڑتی ہے انسان پر۔نیکی کا مہینہ آیا اور نیکیوں سے محروم رہ گیا اس بلا ء سے بھی تو جان چھڑانی ہے کہ جو محرومی کا احساس ہے اور محرومی کے نتائج ہیں وہ تو پڑیں گے بہر حال۔اس کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ فدیہ مقرر