خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 476

خطبات طاہر جلد 16 476 خطبہ جمعہ 27 جون 1997ء حصہ پاسکتا ہے اور عجیب بات ہے کہ تعریف کرنے والے ایسی باتوں پر سر دھنتے ہیں کہ آپ حاشر ہیں، آپ اول ہیں، آپ آخر ہیں، آپ خاتم ہیں اور نہیں جانتے کہ ہر مومن کو وہ ہونا چاہئے ورنہ اسے آنحضرت ﷺ کی ان فضیلتوں کی تعریف کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔ صلى الله دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جن کو اللہ نے عرفان عطا فر مایا، فرماتے ہیں کہ: ہم ہوئے خیر ا مم تجھ سے ہی اے خیر رسل ه الله تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھا یا ہم نے ( در ثمین اردو : 17) صلى الله حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نظر ان سب فضیلتوں پر تھی جو حضرت اقدس محمد مصطفی امی کو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمام نبیوں سے ممتاز طور پر عطا کی گئیں اور تقاضا اس کا یہ سمجھا کہ تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے پس وہ جو آنحضرت ﷺ کی فضیلتوں پر قدم آگے نہیں بڑھاتا وہ نہ انذار کے مضمون سے واقف ہے نہ تبشیر کے مضمون سے واقف ہے۔ واپس اس مضمون کی طرف آتا ہوں جو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں ۔ اپنے اندار میں بھی وضاحت کریں اور خوب کھولیں کہ جو شخص رستے کے خطرے نہ بتائے اسے رستے کی طرف بلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایک انسان کو آپ پہاڑ کی چوٹی سے دعوت دیں کہ آؤ میری طرف آؤ اور یہ نہ بتائیں کہ رستے میں کتنی کھڑے ہیں، کتنے ایسے جانور مثلاً بعض دفعہ سانپ رستوں میں ہوتے ہیں، بعض دفعہ بھیڑیئے یا اور کئی قسم کے جانور، زہریلے جانور رستے میں بیٹھے ہوتے ہیں مختلف جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے ہیں اس لئے آؤ تو اس رستے سے آؤ جس رستے سے میں آیا ہوں اور وہ رستہ محفوظ رستہ ہو اس رستے پر چل کر خطرہ نہ ہو۔ اگر انسان اس طرح دعوت دے تو لازم ہے کہ جہاں وہ خوشخبری دے گا کہ آؤ بلندی کی طرف آجاؤ وہاں انذار بھی کرے گا اور بتائے گا کہ اس رستے میں کیا کیا خطرات در پیش ہیں ۔ تو خطرات کا بتانا لازم ہے اس کے بغیر دعوت کا حق نہیں ہے کیونکہ دنیا میں ایک بھی نبی نہیں ہے جسے نذیر اور بشیر نہ کہا گیا ہو۔ یہ دونوں صفات ہیں جو نبیوں کے ساتھ چلتی ہیں اور یہ دونوں صفات ہیں جو جماعت احمدیہ کو اپنانی ہوں گی ۔ پس آپ جب تبلیغ کرتے ہیں تو ہر قسم کے خطرات سے آگاہ کریں بلکہ بعض مواقع پر منافقوں کے خطرے سے بھی آگاہ کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں بعض