خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 454
خطبات طاہر جلد 16 454 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء متاثر ہوکر پردے کے لئے تیار نہیں تھیں اور ماں باپ کے سامنے بھی انہوں نے کہا نہیں، ہم نہیں یہ کام کر سکتیں۔جب ماں باپ نے مجھے بتایا میں نے ان کو بلایا اور پیار سے سمجھایا۔میں نے کہا تم یہ دیکھو کہ تم پر وہ کس کے لئے کر رہی ہو اللہ کے لئے یا ماں باپ کے لئے یا اور کوئی بات پیش نظر ہے۔اگر تمہیں یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے یہ قربانی چاہتا ہے کہ تم اپنے حسن کو ، اپنی دلآویزی کو چھپاؤ اور معاشرے کی بے راہ رو آنکھوں کو اجازت نہ دو کہ وہ تم پر حملہ کریں یا حرص کے ساتھ تمہیں دیکھیں تو پھر یہ ایک اچھی بات ہے۔اگر تم اچھی بات سے آج شرما گئیں تو ہمیشہ ساری اچھی باتوں سے شرماتی رہو گی۔دل میں یہ خیال کرو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں سوسائٹی کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کیونکہ وہ بد ہے اور تم اچھی ہو تم نے ان کو سبق دینا ہے۔چنانچہ جب ان باتوں کو خود اچھی طرح وہ سمجھ گئیں تو پھر میں نے ان کو دیکھا پردے میں ملبوس اور میری آنکھوں کی بھی ٹھنڈک کے سامان ہوئے اور ساری عمر کے لئے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے سامان ہوئے۔اتنا لطف آتا تھا ان کو دیکھ کر پھر اور وہ بڑے مزے سے میری طرف آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یوں ہلکا سا، یہ بتا جاتی تھیں کہ ہاں ہم خوش ہیں۔ہمیں اب پتا چلا ہے کہ ہم کیا چیز ہیں۔پس نیکی پر خود اعتمادی یہ بہت ضروری ہے اور اس خود اعتمادی کے فقدان کے نتیجے میں نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔پس جن بچوں کو آپ نے سوسائٹی میں بھیجنا ہے ان کو بتائیں کہ تمہاری عزت اور تمہاری اعلیٰ اقدار سچائی سے وابستہ ہیں۔تمہاری عزت اور اعلیٰ اقدار گندگیوں سے منہ موڑنے سے وابستہ ہیں۔سوسائٹی ایک طرف منہ کر کے جاتی ہے تم دوسری طرف منہ کر کے چلو اور اس میں تمہارا سر فخر سے اٹھنا چاہئے ، ذلت کا احساس نہیں ہونا چاہئے۔اگر نیکی کے ساتھ ذلت کا احساس ہو تو یہ نیکی کبھی بھی قائم نہیں رہ سکتی۔پس اکثر خرابی یہاں بچوں میں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ ان کو گھر میں نیکی میں عزت کا احساس نہیں بتایا جاتا۔یہ نہیں بتایا جاتا کہ تم میں تو اس سے خود اعتمادی پیدا ہونی چاہئے تم اونچے ہو تم گھٹیا لوگوں سے شرماتے ہو۔یہ تم کیا چیز ہو، کیا کبھی جانوروں سے بھی تم شرمائے ہو کہ جانور ہر قسم کی بے ہودہ حرکتیں کر رہے ہیں اور تم انسانوں کی طرح چل رہے ہو۔تمہیں جانوروں پر رحم تو آسکتا ہے مگر جانوروں سے شرما نہیں سکتے۔پس انسانی ماحول میں بھی جانور بس رہے ہیں اور جانور وہ جو مادر پدر آزاد ہیں ، جانوروں سے بھی بے حیائیوں میں آگے بڑھ گئے ہیں ان کے سامنے