خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 445
خطبات طاہر جلد 16 445 خطبہ جمعہ 20 جون 1997 ء ماں باپ کی سوچ اس سوچ پر اثر انداز ہو رہی ہے نہ کہ اس کا ہماری سوچ پر حکم چل رہا ہے۔پس تحکم سے احتراز لازم ہے اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نماز کے قیام کے سلسلے میں شروع میں بچپن میں بچوں پر تحکم کی اجازت نہیں دی۔سات سال سے پہلے تو کسی حکم کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سات سال سے دس سال تک ایسی نصیحت جس کے نتیجے میں بچے نمازوں کی طرف متوجہ ہوں اور بار باران کو نمازوں کی عادت ڈالنے کی طرف ماں باپ کو توجہ دلا نا یہ تو ہمیں ملتا ہے لیکن بچوں کو اس پر سزا کوئی نہیں ہے کہ وہ سات سال سے دس سال کی عمر میں نمازوں سے منہ موڑتے ہیں۔تو آنحضرت میر نے ان کو سات سے دس سال تک سزا دینے کا کہیں ارشاد نہیں فرمایا۔تین سال مسلسل ماں باپ کو نصیحت کے ذریعے اثر انداز ہونا ہے۔ایسی باتیں کہنی ہیں جو ان کے دل اور دماغ کو اسلام کی طرف پھیر نے والی ہوں اور دل کے اطمینان سے وہ اسلام کی طرف مائل ہوں۔اور دس سال تک جب وہ اس عمر کو پہنچیں جہاں صرف گھر ہی میں نہیں باہر بھی ایسے بچوں کو کچھ نہ کچھ سزا ضرور دی جاتی ہے۔پرانے زمانے میں تو سکول میں ایسے بچوں کو جو دس سے بارہ سال کی عمر میں ہوں سوٹیاں بھی پڑتی ہیں اور کئی قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں بلکہ وہاں تو اس سے پہلے بھی بعض دفعہ سزا شروع ہو جاتی ہے تو پہلے سزا کا تو کوئی تصور ہی نہیں ہے، جھوٹ ہے۔اس سے باز صلى الله رہیں اور اس کے بعد جو سزا ہے اس کو آنحضرت ﷺ نے معمولی سرزنش قرار دیا ہے۔ہرگز کسی قسم کی سختی ایسی نہیں جس سے بچے کے بدن پر ایسی ضرب پڑے جس سے اس کو نقصان پہنچ سکے اور یہ وہ پہلو ہے جس کو بچپن کی تربیت میں آپ کو محوظ رکھنا ہوگا یعنی سات سال کی عمر تک پیار اور محبت سے اپنے ساتھ دل لگائیں، ان کی اچھی باتوں کو اُچھالیں کیونکہ اس عمر میں بچے ضرور اپنی تعریف کو خوشی سے قبول کرتے ہیں اور جس بات کی تعریف کی جائے اس پر جم جایا کرتے ہیں۔جس چیز سے نفرت دلائی جائے اس سے متنفر ہو جایا کرتے ہیں۔تو آئندہ آنے والے جو خطرات ہیں ان کا بچپن ہی میں تصور باندھیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر ماحول کی بدی کو ان کے سامنے اچھال کر پیش کریں۔ان کو بتائیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔جب وہ سات سال سے اوپر دس سال تک پہنچیں تو پھر خصوصیت سے عبادتوں کی طرف متوجہ کرنا بھی آپ کی تربیت کا ایک حصہ بن جائے گا۔اس کے بعد نا پسندیدگی کا اظہار، ان سے منہ موڑ نا اگر وہ بری