خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 444 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 444

خطبات طاہر جلد 16 444 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء لوگ ہیں جو اس کا فلسفہ نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا تو کوئی فائدہ نہیں۔اکثر ایسے بچے مختلف زبانیں بولنے والوں کے بچے ہوتے ہیں ان کو تو عربی کا بھی کچھ پتا نہیں کہ کیا چیز ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ بظاہر ایک بے کار بات ہے۔میں اس وقت اس تفصیل میں نہیں جاتا کہ نفسیاتی لحاظ سے اس کا کیا اثر پڑتا ہے اور بچے کا دماغ کن باتوں کو شروع ہی سے قبول کرتا ہے اور پھر محفوظ رکھتا ہے۔اس بحث کو چھوڑتے ہوئے میں ان ماں باپ کو بتا رہا ہوں جو اذان دیتے یا دلواتے ہیں، وہ تکبیر دیتے یا دلواتے ہیں ان کو تو متوجہ ہونا چاہئے وہ تو باشعور ہیں۔آخر کیوں یہ کہا گیا؟ ایک اس کا پہلو وہ ماں باپ ہیں جن کے ہاں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ان کو سمجھایا گیا ہے کہ بچپن ہی سے بچوں کی صحیح تربیت کر دور نہ بعد میں یہ ہاتھ سے نکل جائیں گے۔تو پہلی تربیت کا وقت بچپن کا آغاز ہے اور اس وقت کی تربیت ایسی ہے جو ہمیشہ کے لئے آئندہ زندگی کی بنیادیں قائم کرتی ہے۔اس بات کو بھلانے سے بہت سے لوگ نقصان اٹھا جاتے ہیں۔بچوں سے ہر قسم کی پیار کی باتیں تو ہوتی ہیں ان کی خواہشات کا خیال رکھا جاتا ہے مگر بچپن سے ان کو نیکی پر قائم کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔اس لئے سب سے اہم بات اس ماحول میں جیسا کہ دوسرے ماحول میں بھی بہت ہی اہم ہے لیکن امریکہ میں خصوصیت کے ساتھ جماعت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ بچوں سے ایسی باتیں کریں جو اللہ اور رسول ﷺ اور نیک لوگوں کی محبت پیدا کرنے والی باتیں ہوں اور ان کو نیکی کی اقدار سمجھائیں اور اس کے لئے گھر میں مختلف قسم کے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں۔جب ایک بچہ اچھی بات کرتا ہے تو ماں باپ کا فرض ہے کہ اس بات کو بڑی اہمیت دیں اور اس بچے کی اس بات کا ذکر چلائیں کیونکہ وہ بچہ جو اچھی بات پر مثلا کسی موقع پر وہ جھوٹ بول سکتا تھا اس نے نہیں بولا اور سچ بول کر بظاہر نقصان اٹھایا ہے اگر آپ اس کی باتیں آنے والوں میں ذکر کیا کریں اور سوسائٹی میں اپنے گھر میں ، گھر سے باہر اس بچے کو اس طرح پیش کریں کہ دیکھو اس کے دل میں شروع ہی سے نیکی ہے تو ایسا بچہ اس بات کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ناممکن ہے کہ اس کے دل سے اس ماحول میں نیکی کی اہمیت کا اثر مٹ جائے۔دوسرے جب وہ کوئی بری بات کرتا ہے تو اسے سمجھانا اس طریق پر کہ وہ سمجھ جائے اور اسے محسوس ہو کہ میں ایک برابر کی چیز ہوں، میں بھی ایک عقل رکھنے والا وجود ہوں جو کچھ میں سوچتا ہوں ،