خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 442 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 442

خطبات طاہر جلد 16 442 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء ساتھ اور تبلیغ کے اپنے بھی کچھ مسائل ہیں کیونکہ نئے آنے والے ایسے آتے ہیں جو تربیت کے محتاج ہوتے ہیں۔اگر تربیت کرنے والے خود تربیت کے محتاج ہوں تو اس سے بہت سے گھمبیر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔چونکہ ہم نے خصوصیت کے ساتھ مستقبل کی طرف توجہ دینی ہے اس لئے ہماری نظر موجودہ مسائل پر بھی رہنی ضروری ہے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے تعلق میں بھی ہمیں جماعت کی اور نئے آنے والوں کی ایسی ٹھوس تربیت کرنی ہے جس کے نتیجے میں ہم کہہ سکیں کہ ہم نے صدی کے سر پر پیدا ہونے کا حق ادا کر دیا۔بہت سے ایسے خاندان ہیں جن سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان میں خصوصیت کے ساتھ ایفرو امریکن خاندانوں نے اکثر تربیت ہی کے متعلق سوال کئے کیونکہ وہ ایک ایسے ماحول میں پیدا ہوئے جس ماحول نے ان کے بچوں تک گہرا اثر کر رکھا ہے۔چنانچہ اس ماحول سے الگ ہو کر اسی ماحول کی تربیت کرنا جس میں وہ پیدا ہوئے ایک بہت ہی مشکل مسئلہ ہے۔چنانچہ کل بھی سوال و جواب کی مجلس میں ایک مخلص احمدی دوست نے یہی توجہ دلائی کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہم کیا کریں۔کچھ ایسی باتیں ہیں جو بچپن سے شروع ہوتی ہیں اور بچپن ہی میں ان کی بنیاد ڈالنی ضروری ہے۔میں سب سے پہلے انہی کی طرف آپ کی توجہ منعکس کرتا ہوں کیونکہ جب تک بچوں کی نسل کو نہ سنبھالا جائے آئندہ کے متعلق کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی۔یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے اسی طرف اشارہ فرما رہی ہے یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدِ اے لوگو جوایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور کل پر نظر رکھو کہ تم کل کے لئے کیا آگے بھیج رہے ہو۔پس آج کے بچے کل کی نسلیں ہیں جنہوں نے آج کا احمدیت کا پیغام انگلی صدی میں منتقل کرنا ہے۔بچوں کی طرف تربیتی نقطہ نگاہ سے توجہ دینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ ماں باپ جو بچوں کی تربیت کرتے ہیں خود ان کی بھی تربیت ہوتی ہے اور لازم ہے کہ وہ اپنی تربیت اپنے بچوں کے حوالے سے کریں۔تو پہلی بات جو بچوں کے تعلق میں خصوصیت سے یہاں کے ماحول میں بتانی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ماں باپ کے لئے لازم ہے کہ بچپن ہی سے اپنے بچوں کا تعلق اپنے ساتھ بڑھائیں اور ایسے خاندان بنائیں جن میں نگاہیں اندر کی طرف اٹھنے والی ہوں اور بچوں کو گھر کے ماحول میں سکون ملے۔