خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 431
خطبات طاہر جلد 16 431 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء مذہب ہونا چاہئے۔تو اس قسم کے امور ہیں خدا تعالیٰ نے جن کی ہم پر رحمت فرمائی ہوئی ہے جن کا ہم پر انعام فرمایا ہوا ہے ہم تو اس سے منہ نہیں موڑنے والے لیکن غیر مونہ موڑیں گے جب تک ان کو اس انعام کی حیثیت کا علم نہ ہو۔پس پتا ہونا چاہئے کہ نعمت ہے اور نعمت کے علم کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جو نعمت بانٹ رہا ہے اس کو تو پتا ہو کہ نعمت ہے۔اب یہ مشکل ہے جو آج درپیش ہے کہ بہت سے احمدی بھی ایسے ہیں جن کے پاس اتنا وقت ہی نہیں رہا یا بچپن سے ان کی تربیت ایسی نہیں ہوئی کہ ان کو احمدیت کی نعمتوں کا علم نہیں ، اس کا مزہ انہوں نے چکھا نہیں ہے یعنی وہ نعمتیں جو خزانوں کی صورت میں بانٹی جارہی ہے اس لئے جب پتا چلتا ہے تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے فوری طور پر اس طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔68 تو اس طرح دو طرح سے ہمیں فائدہ ہوگا۔ایک وہ احمدی جن کو آپ نے کام سپرد کرنا ہے آپ نے کہنا ہے کہ تم نے سیکھنا ہی سیکھنا ہے آگے جو آکے کام کو بڑھانا ہے تمہیں علم نہیں ہوگا تو کیسے بڑھاؤ گے۔وہ پڑھیں گے، وہ سنیں گے اور ان کے دل بدل جائیں گے۔میں نے شاید پہلے بھی ذکر کیا تھا ایک دوست نے میرے سامنے ذکر کیا کہ ساری عمر میں نے ضائع کر دی خدا نے ہر طرح سے نعمت عطا فرمائی تھی۔اچھے خاصے کھاتے پیتے انسان لیکن اب MTA کے ذریعے جب خطبے دیکھے ہیں تو اس وقت مجھے پتا چلا ہے کہ میں کن باتوں سے محروم تھا اور اب وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہترین داعی الی اللہ اور اپنی جماعت میں چوٹی کی مالی قربانی کرنے والے ہیں۔مگر یہ ایک آدمی نہیں کثرت سے ایسے پیدا ہورہے ہیں، مگر جو غیر احمدی ہیں ان کی بات میں کر رہا ہوں۔آپ میں سے جو واقف ہیں اتفاقا خطبے سن کے MTA کے ذریعے ان کو تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پتا چل چکا ہے، ان کو چاہئے کہ وہ اپنی لائبریریوں میں اپنے مزاج کے مطابق مددگار بن جائیں لیکن اس کے باوجود بہت کچھ ہے جو دوسری زبانوں میں ہے جن کا ان کو علم نہیں ہے۔اب دورے ہوتے ہیں جرمنی کے جس میں جرمن زبان استعمال ہوتی ہے، عربی استعمال ہوتی ہے، تر کی استعمال ہوتی ہے اور بنگالی استعمال ہوتی ہے ، افغانی استعمال ہوتی ہے۔یعنی ایک دورے میں ایک زبان تو نہیں بعض ممالک میں دس دس بارہ بارہ زبانیں استعمال ہورہی ہیں اور ان سب کے تراجم جرمن یا انگریزی یا اور کسی اور زبان میں موجود ہیں۔تو خزانے تو بہت ہیں اللہ کے فضل سے جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آج بانٹے