خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 430
خطبات طاہر جلد 16 430 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء بولنے والے کو اس سے محبت ہوا کرتی ہے۔تو یہ ہرگز مراد نہیں کہ جرمن، جرمن چھوڑ دیں اور اٹالین، اٹالین چھوڑ دیں صرف اردو کو پکڑ لیں۔اردو سیکھنا اس لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اور سلسلے کا لٹریچر اکثر اردو میں ہے۔اس وجہ سے وہ بے شک سیکھیں شوق سے سیکھیں ان کو فائدہ ہو گا لیکن اپنی زبان ان کو نہیں بھولنی۔جہاں بھی جائیں اگر اٹالین ہیں تو لازم ہے کہ اپنے بچوں کی اٹالین زبان میں اچھی تربیت کریں۔اکثر پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں تو اردو زبان میں تربیت کریں کیونکہ پنجابی تحریری زبان کے طور پر ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ایسی ایسی اکیڈیمیز بنی ہوئی ہیں پاکستان میں جن میں بہت اچھے اچھے ماہرین فن تیار ہورہے ہیں ایک احمدی بھی ہیں ان میں محمد یعقوب صاحب امجد غالباً نام ہے، وہ مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ دیکھو ہم نے پنجابی میں یہ کر دیا، وہ کر دیا۔مگر کبھی انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ کتنے لوگ لائبریری جا کر ان کا پنجابی ترجمے والا لٹریچر پڑھتے ہیں۔جو پنجابی کے شوقین ہیں جن کا ایک گروہ بنا ہوا ہے ایک سوسائٹی ہے وہ سارے حصہ لیتے ہیں لیکن عامتہ الناس کو اس سے کوئی تعلق نہیں۔ٹھیٹھ پنجابی بولتے ہیں اردو آتی بھی نہیں مگر پڑھتے ہیں تو اردو میں پڑھتے ہیں۔تو حقیقت کو دیکھنا ضروری ہے اس لئے میں نے ان بچوں کو کہ دیا ہے کہ تم مجھے جب تک اردو میں خطا نہیں لکھو گے میں نے تمہیں جواب ہی نہیں دینا۔اب وہ مجبور ہیں بے چارے ٹوٹا پھوٹا لکھنے لگ گئے ہیں ماشاء اللہ لیکن یہ اس لئے ضروری ہے کہ موازنہ زبانوں کا ضروری ہوا کرتا ہے۔ہر زبان اپنی اہمیت رکھتی ہے لیکن جب تک ایک سے زیادہ زبانیں داعین الی اللہ کو نہ آئیں اس وقت تک وہ حقیقت میں خدمت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔تو اس طرح آپ زبانیں تو سیکھیں گے مگر جو میں اب بات کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اپنی لائبریری کو ایک بہانہ بنالیں لوگوں تک پہنچنے کا اور ایسا بہانہ ہو جو واقعہ حقیقی ہو، جھوٹا بہانہ نہ ہو۔آپ کو ٹرکش نہیں آتی مگر ترک ہیں جن کو آتی ہے ان کے پاس جائیں۔آپ کو چینی نہیں آتی مگر چینی ہیں جن کو آتی ہے۔جب وہ پڑھیں گے تو وہ پھر آپ کے مضمون میں بھی دلچسپی لیں گے یہاں تک کہ جو مترجمین ہیں، بعض مترجمین ایک دو کتابوں کا ترجمہ کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اب ہمیں اور لٹریچر بھیجو۔اب ہم اپنی خاطر معلوم کرنا چاہتے ہیں بعضوں کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ایک چینی مترجم نے ہمارے چینی صاحب کو لکھا کہ ایک دو کتابیں فلاں فلاں میں نے پڑھی ہیں میرے تو زمین و آسمان بدل گئے ہیں، احمد بیت اگر یہ ہے تو سارے چین کا یہی