خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 429 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 429

خطبات طاہر جلد 16 429 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء کہ بتاؤ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔تو میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ آپ بتائیں کہ ان کو کیا کرنا چاہئے جن کا آپ کی جماعتوں سے تعلق ہے اور آپ کے حلقوں سے تعلق ہے۔اب ہر حلقے کی لائبریری کے لئے اس حلقے کا ماحول دیکھنا ہوگا اور اس کے گرد و پیش نظر ڈال کے جائزہ لینا ہو گا کہ کس قسم کے سوالات یہاں اٹھتے ہیں، کس قسم کے لوگ بستے ہیں۔پہلے خطبے میں غالباً بیان کر چکا ہوں بعض جگہ بنگالی بہت ہیں بعض دفعہ آسامی۔ہر ملک کے رہنے والے موجود ہیں۔کہیں کردش موجود ہیں جو ا کٹھے عام طور پر رہتے ہیں، کہیں مختلف عرب یا افریقن ممالک کے لوگ ہیں اور یہ جو بیرونی آنے والے ہیں ان کے اندر عموماً یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ مل جل کر رہتے ہیں کیونکہ ایک دوسرے سے باتیں کرنا آسان، ایک دوسرے کی طرز رہائش چونکہ ملتی جلتی ہے ، ہم شکل ہوتی ہے اس لئے ان کے ساتھ اپنے ماضی کی یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔چنانچہ نے ملکوں میں بھی جاتے ہیں تو اکثر انہی یادوں میں ہی رہتے ہیں اور یہ لوگ اکٹھے رہتے ہوئے اپنے پرانے مناظر کو زندہ رکھتے ہیں جس طرح بچپن میں اٹھے جس طرح پرورش پائی جس ماحول میں ہوا کرتے تھے جیسی باتیں کرتے تھے۔اس بات کو سب سے زیادہ پنجابی جانتا ہے کیونکہ اکثر دوسری زبانوں سے بے خبر ہے اور سوائے اپنی زبان کے اور آپس میں مل جل کر باتیں کرنے کے اس کو زیادہ باتیں نہیں آتیں۔جو صاحب علم ہو جائیں ان کی ایک اور مصیبت وہ اپنی زبان بالکل چھوڑ بیٹھتے ہیں اور ان کے بچے پھر صرف انگریزی کے ہو جائیں گے یا اٹالین کے ہو جائیں گے یا سپینش کے ہو جائیں گے ان کو اپنے پس منظر کا پتا نہیں۔تو یہ باتیں بھی وہ ہیں جو ضمنا سامنے آ جاتی ہیں اس کو ختم کریں، یہ سلسلے تبلیغی جماعتوں کے سلسلے نہیں ہوا کرتے یعنی حقیقت میں وہ جماعتیں جو آنحضرت مہ کے نقش قدم پر تبلیغ کے لئے قائم کی گئی ہیں ان کے یہ مزاج میں نہیں۔اسی لئے میں نے جرمن جماعت کے مخلص بچوں کو جو بڑی تیزی سے اخلاص سے جماعتی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں اور مجھے جرمن زبان میں خط لکھتے تھے اور اتنے موٹے موٹے تھدے لگ جاتے تھے جرمن زبان کی فائلوں کے۔ان سب کو میں نے کہہ دیا ہے کہ آئندہ سے تمہیں جواب ہی نہیں ملے گا جب تک اردو میں نہ لکھو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے اردو اچھی لگتی ہے۔اردو اچھی لگتی تو ہے مگر زبانوں کے موازنے میں پھر آکر اردو کا اپنا ایک مقام ہے، جرمن کا اپنا مقام ہے، ہر زبان کی اپنی ایک اہمیت ہے، اپنا ایک مذاق ہے اور ہر زبان الله