خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 428
خطبات طاہر جلد 16 428 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء وڈ یوتم دیکھو اور ہماری مددکرو اور اس تعلق میں بسا اوقات ایک غیر احمدی یا غیر مسلم کی مددبھی لی جاسکتی ہے چنانچہ ہم نے ایسا کر کے دیکھا ہے۔میرا تجربہ ہے ذاتی طور پر کہ جب کسی مثال کے طور پر یہاں میرا ایک قسم کا ذاتی تجربہ نہیں لیکن پہلے اس سے بہت ہو چکا ہے۔یہاں اگر کسی تر کی غیر احمدی دوست کو جو صاحب علم ہوا ایک احمدی درخواست کرے کہ آئیں ذرا میرے گھر کھانے پر تشریف لائیں میں نے آپ سے بات کرنی ہے۔یہ میرے پاس کتابیں پڑی ہوئی ہیں۔یہ چیزیں ہیں تو میں اتنی منت کرتا ہوں کہ آپ صاحب علم ہیں آپ مہربانی فرما کر ذرا پڑھ کے دیکھیں اور مجھے بتا دیں کہ اس میں ہے کیا کیا تو میں آگے اس کو اپنی زبان میں منضبط کرلوں گا۔اگر اس قسم کی درخواست کی جائے عاجزی کے ساتھ تو انسانی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ اکثر لوگ حامی بھریں گے اور کہیں گے ہاں ٹھیک ہے ہم مدد کرتے ہیں۔بنگالیوں کی مدد لی جاسکتی ہے اردو کی مدد لی جاسکتی ہے مختلف قسم کے غیر ملکی ، افریقنوں کی تو اس بات کا فیصلہ ماحول کرے گا۔جب میں اب لائبریریوں کی باتیں کر رہا ہوں تو بڑی وسیع مرکزی لائبریری کی بات نہیں کر رہا۔میں اب چھوٹی چھوٹی پیدا ہونے والی لائبریریوں کی بات کر رہا ہوں جن کو جماعتوں نے انشاء اللہ اب ہر ماحول کے لئے بنانا ہے تا کہ ہر ماحول کو اپنی مرضی کا سامان وہیں سے مل جائے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر آپ شہروں میں جتنے بھی حلقے ہیں مثلاً لندن کی جماعت ہے اس کے حلقے ہیں، ہر حلقے میں ایک لائبریری قائم ہونی ضروری ہے اور یہی وہ لائبریری کا قیام ہے جس کی طرف ان خاتون نے جوصدر لجنہ ہیں اپنے علاقے کی انہوں نے یہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی سو خواتین ہیں جو اس میں ملوث ہو چکی ہیں اور ہر حلقے میں ہم ایک لائبریری قائم کر رہے ہیں۔جب تک یہ نہ ہو مرکزی لائبریریوں پر یہ انحصار کہ آپ کو خط ملیں یا پیغام میں کہ فلاں مضمون میں، فلاں مسئلے پر ہمیں لٹریچر دیا جانا چاہئے بتاؤ کیا لیں۔یہ اگر ہر طرف سے پیغام ملیں گے تو اول تو ایسے پیغام ملتے ہی کم ہیں، شاذ کے طور پر لوگ لکھتے ہیں۔دوسرے جن کو ملتے ہیں ان کو آگے جواب دینا نہیں آتا۔سراسیمگی پھیل جاتی ہے کیا کریں، کیا جواب دیں اور آسان حل یہ ہوتا ہے کہ وہ اٹھا کر خط مجھے بھیج دیتے ہیں کہ میں آرام سے جواب دیتا رہوں۔آرام سے تو دوں مگر کتنے خطوں کا جواب دوں۔اب تو کام پھیلتا چلا جا رہا ہے۔بہت کثرت کے ساتھ یہ سوال اٹھ رہے ہیں، یہ مطالبے آرہے ہیں