خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 415

خطبات طاہر جلد 16 415 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء مقامی صدر سے کہوں کہ یہ چیزیں مجھے مہیا کر دو اور پتا ہونا چاہئے کہاں سے ملتی ہیں اور ہر شعبے کے انچارج کو ہی نہیں ہر صدر کو ، ہر امیر کو معلوم ہونا چاہئے خواہ وہ اس شعبے کا انچارج براہ راست ہو یا نہ ہو کہ میرے شعبوں میں جو سارے شعبے جیسا کہ امیر ہی کے ہوتے ہیں ان میں یہ چیز فلاں جگہ ہے، یہ چیز فلاں جگہ ہے اس کا باقاعدہ نظام لکھا ہوا سامنے چارٹوں کی صورت میں لڑکا ہو یا نہ لڑکا ہو، ایک امیر کا دماغ زندہ رہنا چاہئے ، اس کی عمومی نظر رہنی چاہئے کہ جس وقت مجھے جو چیز چاہئے چٹکی بجاتے ہوئے وہ حاصل کرلے۔دراصل یہی وہ نظام تھا جس کی طرف حضرت سلیمان کے زمانے میں قرآن کریم نے اشارے کئے اور سمجھنے والے سمجھے نہیں۔ہر چیز کے لئے حضرت سلیمان نے ایسا نظام قائم کیا ہوا تھا اور ایسے آدمی مقرر تھے کہ گویا جب وہ ضرورت پڑتی تھی تو چٹکی بجاتے ہوئے حاضر کرتے تھے، آنکھ جھپکنے میں حاضر کرتے تھے۔یہ محاورہ تھا۔ایسے صاحب علم تھے جن کو صناعی کے اوپر مہارت حاصل تھی۔ان صاحب علم لوگوں میں سے ایک نے دعوی کیا آپ نے فرمایا ہاں اس نے گویا دیکھتے دیکھتے حاضر کر دیا یعنی ایک ایسا تخت بنادیا جو ملکہ سبا کے تخت سے اتنا مشابہ تھا کہ جب اس نے دیکھا تو کہا کا نہ ھو یہ نہیں کہا وہی ہمارے گھر سے چوری ہوا ہوا ہے۔اس نے کہا ایسا مشابہ ہے کہ گویا وہی ہے۔تو یہ نظام کا کام ہوا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس نظام کی مثالیں قرآن کریم میں ہمیں سمجھا دی ہیں۔تو امیر کے لئے ایک دفعہ نظام بنانا مشکل کام ہے، نظام پر کاٹھی ڈالنا مشکل کام ہے مگر ایک دفعہ ڈال کے بیٹھے تو پھر مزے ہی مزے ہیں کیونکہ پھر اس کا سارا وقت مصروف تو رہے گا مگر ان باتوں میں مصروف رہے گا جو گویا اس کی انگلی کی نوکوں پر لکھی ہوئی ہیں۔بے چینی نہیں پیدا ہوگی۔کام جتنا بڑھے گا اس کو پتا ہے میں نے فلاں جگہ فلاں آدمی کے سپر د کام کرنا ہے۔فلاں جگہ فلاں آدمی کے کام سپرد کرنا ہے۔یہ کام اس طرح ہو گا وہ کام اس طرح ہو گا۔ذہن پوری طرح منظم ہو چکا ہوگا اور اسی کا نام قرآن کریم میں استَوى عَلَى الْعَرْشِ (الاعراف:55) بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے چھ دن لگائے اور اللہ کے دن بہت بڑے بڑے دن تھے۔ساری کائنات کا نظام پیدا کیا ہے اس میں کوئی ذرہ بھی باقی نہیں چھوڑا۔اس نظام کے کسی ایک چھوٹے سے حصے پر بھی آپ غور کریں تو آپ اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔