خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 408
خطبات طاہر جلد 16 408 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء عہدے باقی رہیں گے اور کام نہیں رہے گا۔مطالبہ کچھ نہیں ہوگا اور بیٹھے رہیں گے ادھر ادھر ہو کر۔اس لئے عہدوں کی تقسیم میں نہیں کر رہا، کام کی تقسیم کر رہا ہوں۔امیر مانگے گا آدمی کہ مجھے سارے ملک کا جلدی سے جائزہ چاہئے اور اس کے لئے مجھے اس نوع کے آدمی چاہئیں اور پھر امیران کو بتائے گا کہ تم نے یعنی وہ آدمی مقرر کرے گا جن کو ان کے اوپر نگران بنایا جائے گا۔اس کے لئے بھی بہت سے کام چاہئیں اور کہے گا تم نے پندرہ دن میں ، دس دن میں جتنی جلدی سے جلدی ہو سکے یہ جائزہ لینا ہے کہ تبلیغ کرکون رہا ہے اور کیسے کر رہا ہے اور جب کیسے کی بات شروع ہوگی پھر ایک اور نظام شروع ہو جائے گا۔یہ بتانا کیسے ہے ان کو کہ کیسے تبلیغ کی جاتی ہے۔اکثر لوگ تو کہتے ہیں ہم حاضر ہیں جی بتاؤ کس طرح تبلیغ کریں لیکن جب آپ تبلیغ کرنے کی خواہش رکھنے والوں کا جائزہ لیں تو وہاں آپ کو پتا چلے گا کہ کتنا بڑا سقم ہے۔اکثر بیچارے خواہش رکھتے ہیں طریقے کا پتا کوئی نہیں۔ان کے لئے طریقے طے کرنا، ان کو سمجھانا اس کے مختلف ذرائع ہیں جن کو جماعت کو اختیار کرنا ہوگا۔ان میں سے ایک ذریعہ یہ ہے کہ دوسرا جائزہ یہ لیں کہ آپ میں سے موثر کام کرنے والے ہیں کون اور جہاں تک میں نے ملکوں کا جائزہ لیا ہے پاکستان ہو یا غیر پاکستان ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ضرور نظر آتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کچھ باتیں عطا کی ہیں۔ان کی زبان میں مٹھاس ہے یا سادگی کی طاقت ہے یا کچھ اور باتیں ہیں جو ضرور پھل لے آتی ہیں۔پس پھل لانے والے اور درخت ہیں اور پھل نہ لانے والے اور درخت ہیں لیکن درختوں کو پھل دار بنانا تو ہمارا کام ہے۔اس لئے پھل دار درختوں سے پوچھیں تو سہی کہ آپ کرتے کیا ہیں جو آپ کو پھل لگتے ہیں یعنی انسان تو بولتے ہیں یہ تو بتاتے ہیں ، وہ سمجھائیں گے کہ ہم نے تو یہ طریقہ اختیار کیا تھا اور اللہ کے فضل سے پھل لگ رہے ہیں۔اگر کوئی کہتا ہے کہ نہیں لگتے تو اس سے پوچھو کیوں نہیں لگ رہے، ہمیں تو لگتے ہیں۔آج اسی دنیا میں ایسے ہیں جن میں سے اکیلے نے مثلاً ستر (70) کا وعدہ کیا ستر (70) کر دیئے۔بعض ایسے ہیں کہ ساری جماعت کا وعدہ کیلے نے پورا کیا ہوا ہے اور باقی چپ کر کے بیٹھے ہیں اور رپورٹ ہے کہ الحمد للہ جماعت فلاں کا وعدہ پورا ہو گیا۔اتنا ٹارگٹ تھا اتنا ہو گیا۔جب پتا کرو تو ایک ہی شخص تھا جس نے یہ سارا کام پورا کیا۔مگر جب ایک شخص کا کام ہو گیا تو پھر اور بھی ذمہ داریاں آئیں گی جن کا میں آئندہ بعد میں ذکر کروں گا۔تو جائزہ لینے کے بعد دوسرا جائزہ ان کا لینا ہے جو اچھا کام کرتے ہیں اور ہیں کتنے۔اب سارے